اقلیتیں پاکستان کا لازمی حصہ، مذہبی نفرت ختم کرکے محبت اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا، مقررین
اسلام آباد(نیوز رپورٹر) مرکزی مسلم لیگ کے صدر انعام الرحمن کمبوہ نے کہا ہےکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ پاکستان کے قیام میں مسیحی، سکھ، ہندو اور دیگر برادریوں نے بھی اہم کردار ادا کیا، جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کے تاریخی خطاب میں واضح کیا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری برابر ہوں گے اور ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق عبادت کی مکمل آزادی حاصل ہوگی پاکستان کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے بھی ہمیں قیام پاکستان کے جذبے کو زندہ کرنا ہوگا۔ قوم کو مذہب، رنگ، نسل اور برادری سے بالاتر ہو کر ملکی دفاع، سلامتی اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے، پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اتحاد، محبت اور بھائی چارہ ناگزیر ہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہارمرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے زیر اہتمام قومی اقلیتی دن کے حوالے سےنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا، تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے صدر انعام الرحمن کمبوہ کے علاوہ مرکزی مسلم لیگ اقلیتی ونگ اسلام آباد کے صدر امانت مسیح، صحافی ہرمیت سنگھ، صاحبزادہ پیر سیدسلطان احمد،سیف اللہ منٹو،نوید مسیح ،شوکت سلفی ، پاسٹر سہیل اشتیاق اور مرکزی ترجمان سلیم الیاس سمیت دیگر رہنماؤں، اقلیتی برادریوں کے نمائندوں اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔تقریب کی نظامت کے فرائض مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان سلیم الیاس نے سرانجام دیئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمرکزی مسلم لیگ اقلیتی ونگ اسلام آباد کے صدر امانت مسیح نے قائداعظم کے ساتھی اور پاکستان کے پہلے وزیر قانون جگندر ناتھ منڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ ریاست کا تعلق شہری کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کے مساوی شہری حقوق سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسائل ضرور موجود ہیں اور اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، تاہم مشکل حالات کے باوجود غیر مسلم پاکستانیوں کی اکثریت نے پاکستان کو اپنا وطن سمجھ کر اس کے ساتھ وفاداری نبھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کے لیے بھی اتنا ہی مقدس ہے جتنا مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ ہیں۔امانت مسیح نے کہا کہ نصاب، میڈیا اور معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک خوبصورت گلدستے کی مانند برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو مذہب، مسلک اور برادری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے سب سے پہلے پاکستانی سمجھا جائے۔صاحبزادہ سلطان احمد نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر میں ہر طبقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کیا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اپنی عبادت گاہ میں جانے اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ملک ہے اور اس کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے تمام شہریوں کو مل کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ دفاعی سفارتی پیش رفت کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے لیے مسلمانوں کے ساتھ اقلیتوں نے بھی بے مثال قربانیاں دیں، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت موجود محبت، اخوت، بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ہرمیت سنگھ نے کہا کہ ’’اقلیت‘‘ کا لفظ بعض اوقات انسان کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے، اس لیے وہ اقلیتی دن کو غیر مسلم پاکستانیوں کے دن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ان کے مسلمان بھائی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے،دیگر مقررین نےاپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے 1947ء میں واضح پیغام دیا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام شہری برابر ہیں اور ہر شخص کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ پاکستان کا آئین اور ریاست تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے کسی پاکستانی کو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر خود کو کمزور یا دوسرے درجے کا شہری تصور نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے درمیان محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ مساجد کے منبر و محراب سمیت ہر فورم سے نفرت کے بجائے محبت اور امن کا پیغام دیا جانا چاہیے۔مقررین نے حضرت محمد ﷺ کی زندگی کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ اہل کتاب اور دیگر مذاہب کے احترام، رواداری اور حسن سلوک کا درس دیا ہے۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفرؓ کی جانب سے مسلمانوں کا مؤقف پیش کیے جانے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مریم علیہا السلام کے ذکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام دیگر انبیاء اور آسمانی کتابوں پر ایمان کا درس دیتا ہے۔مقررین نے کہا کہ مسیحی، سکھ، ہندو، پارسی اور دیگر اقلیتی برادریوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور برادریوں کے حسین گلدستے میں ہے، جس کی خوشبو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔تقریب کے اختتام پر انعام الرحمن کمبوہ نے شرکاء سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے اور تمام مہمانوں، صحافیوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں پاکستان کی سلامتی، استحکام، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔





