قیدی کی فرار کی سازش میں اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل ملوث، ایک ساتھی بھی گرفتار، کلاشنکوف برآمد
راولپنڈی (صنوبر کیانی) مندرہ کے علاقے سے قیدی کے فرار کے معاملے میں سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کے احکامات پر قیدی کی فرار کی سازش میں ملوث تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار اہلکاروں میں اے ایس آئی توقیر حسین، ہیڈ کانسٹیبل محبوب خان اور کانسٹیبل قاسم شامل ہیں۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ مندرہ میں دہشت گردی، مجرمانہ سازش، اقدام قتل، پولیس سے مزاحمت سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق قیدی حماد کو جہلم جیل سے راولپنڈی عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا، واپسی پر پولیس اہلکاروں اور قیدی کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اسے سرکاری گاڑی کے بجائے ایک نجی گاڑی میں بٹھایا اور فرار کرا دیا۔ اطلاع ملنے پر مندرہ پولیس نے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی تو فرار ہونے والے قیدی حماد اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قیدی کے ایک ساتھی دانیال کو گرفتار کر لیا، جس کے قبضے سے کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی۔ پولیس نے فرار قیدی حماد کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ مختلف مقامات پر پولیس ٹیموں کے چھاپے بھی جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق فرار ہونے والا قیدی حماد سنگین نوعیت کے مختلف مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے۔ سی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے واضح کیا ہے کہ فرار قیدی حماد اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، جرائم پیشہ عناصر کی معاونت یا پشت پناہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔





