اسلام آباد (نیوز رپورٹر)
جامعہ صدیقیہ ضیاء العلوم I-8/2، اسلام آباد میں حضور مصلحِ امت، حضرت شیخ الحدیث پیر ابوالخیرسید حسین الدین شاہ صاحب چشتی قادری سلطان پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی روح پُرفتوح کے ایصالِ ثواب کے لیے استقبال ماہ میلاد النبی ﷺ کے بابرکت موقع پر جلسۂ دستارِ فضیلت و تقسیمِ اسناد کے عنوان سے ایک عظیم الشان محفل کا انعقاد کیا گیا ۔ جس می۱۳ خوش نصیب حفاظِ کرام کی دستارِ فضیلت کی گئی اور اسناد تقسیم کی گئیں ۔قرآنِ کریم کا سینوں میں محفوظ ہونا اور اس کی نسبت سے سروں پر تاجِ فضیلت سجنا ایک ایسا انمول لمحہ ہے جو ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔ گذشتہ روز منعقد ہونے والی جلسہ دستارِ فضیلت و تقسیمِ اسناد کی پروقار تقریب نے حاضرین کے قلوب کو نورِ قرآن سے منور کر دیا۔تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور درود و سلام کی گونج سے معطر تھا۔ جب ان نو واردانِ گلشنِ قرآن، تیرہ درخشاں ستاروں (حفاظِ کرام) کے سروں پر دستارِ فضیلت سجائی گئی، تو وہ منظر انتہائی روح پرور، دل کو چھولینے والا اور دیدنی تھا۔ تقریب میں موجود ہر خاص و عام کی زبان پر سبحان اللہ تھا اور فضا میں ایک عجیب سا سکون اور روحانی سماں طاری تھا۔ علم و عرفان کا یہ چشمہ دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی کہ کیسے ان معصوم اور پیارے بچوں نے اپنے سینوں میں اللہ کی آخری کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔ تقریب کا آغاز حضرت علامہ مولانا قاری منور صاحب ضیائی نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ محفل میں جید علمائے کرام، مشائخ عظام اور عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جگر گوشہ حضور مسلم امت عالمی مبلغ اسلام حضرت پیرسید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی سلطان پوری نے اپنے خصوصی بیان میں اولیاءِ کرام بالخصوص پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کاظمی سلطان پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دینی و ملی خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اولیاءِ عظام کی زندگیاں دینِ اسلام کی ترویج اور امت کی اصلاح کے لیے وقف تھیں، اور موجودہ پرآشوب دور میں نوجوان نسل کو بزرگانِ دین کے اخلاق اور تعلیمات سے روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں امن، محبت اور اخلاقی اقدار کو فروغ مل سکے۔
معروف عالم دین مفتی ضمیر احمد ساجد صاحب نے اپنے خطاب میں سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کا واحد راستہ شریعتِ مطہرہ اور اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ انہوں نے دینی مدارس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے قرآن و سنت کے قلعے ہیں جو معاشرے میں علم اور اخلاق کی شمع روشن کر رہے ہیں۔شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد اسحاق ظفر صاحب نے اپنے دلنشین بیان میں شرکائے محفل کو پند و نصائح سے نوازا۔ انہوں نے حاضرین کو تقویٰ، اخلاص اور سنتِ نبوی ﷺ پر سختی سے کاربند رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزارنی چاہئیں، آپسی اختلافات کو مٹا کر اتحادِ امت کا مظہر بننا چاہیے، اور اپنے قلوب کو عشقِ مصطفی ﷺ سے منور کرنا چاہیے۔بیان کے اختتام پر شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد اسحاق ظفر نے ملک و قوم کی سلامتی، ترقی، استحکام، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور تمام شرکائے محفل کے لیے رقت آمیز خصوصی دعا فرمائی۔
مہمانانِ گرامی کی شرکت محفل میں استاذ العلماء مولانا سردار احمد حسن سعیدی، استاذ العلماء و المدارس مولانا حافظ محمد اقبال نعیمی، قاری محمد منور خان ضیائی مولانا محمد اسلم ضیائی مفتی محمد شاہنواز صاحب اور دیگر ممتاز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔ نعت خواں حضرات حافظ محمد فیاض حسن نقشبندی، حافظ محمد جواد اور حافظ محمد علی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ محفل کے میزبانوں میں الحاج سہیل لطیف صدیقی، محمد ساجد عباسی، محمد اقبال مغل اور زاہد رشید شامل تھے۔
آخر میں مہتمم جامعہ صدیقیہ ضیاء العلوم عزت مآب جناب محترم حضرت علامہ پروفیسر محمد محبوب قادری ضیائی نے اپنی طرف سے انتظامیہ کی طرف سے تمام معزز مہمانوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا گیا اور شرکائے محفل میں لنگر تقسیم کیا گیا۔





