آل پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقاتفیڈرل بورڈ اینڈ انٹر میڈیٹ سکینڈری سکولز فیسوں میں غیر معمولی اضافے پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد(سٹی رپورٹر) آل پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد کی وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ان کے دفتر میں ملاقات۔ وفد میں سابق رکن بورڈ آف گورنرز ناصر محمود، رکن بورڈ آف گورنرز حافظ محمد بشارت صدر چیمبر آف ایجوکیشن پاکستان، صدر ایپسما شمالی پنجاب ابرار احمد خان، صدر NAPS چوہدری محمد عبیداللہ، صدر پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک مقبول حسین ڈار، صدر PSCMA ملک نسیم احمد اور سابق ممبر بورڈ آف گورنرز و صدر ایپسما خواتین ونگ راولپنڈی ڈویژن مسز سکینہ تاج و پرائیویٹ ایجوکیشنل سوسائٹی کے رہنما راجہ خالد محمود شامل تھے۔وفد نے وفاقی وزیر کو فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) کی جانب سے الحاق، انسپکشن، تجدید (رینیول)، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ فیسوں میں کئی گنا اضافے پر اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے بالخصوص کم اور درمیانی فیس لینے والے نجی تعلیمی ادارے شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی تعلیمی ادارے حکومت کے شراکت دار کی حیثیت سے لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-اے کے تحت تعلیم کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نجی سکولوں کی اکثریت کم فیس والے اداروں پر مشتمل ہے، جہاں وصول کی جانے والی فیس کا بڑا حصہ اساتذہ کی تنخواہوں، عمارتوں کے کرایوں، یوٹیلیٹی بلز، تعلیمی وسائل اور دیگر آپریشنل اخراجات پر صرف ہو جاتا ہے۔ موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، سوشل سکیورٹی، EOBI، ٹیکسز اور دیگر قانونی ذمہ داریوں کے باعث سکول پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں FBISE کی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ اداروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔وفد نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ FBISE کی بڑھائی گئی فیسوں کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے، غیر متناسب اضافے کو واپس لیا جائے یا نمایاں کمی کی جائے، فیسوں میں اگر اضافہ ناگزیر ہو تو اسے مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے نافذ کیا جائے، جبکہ کم فیس والے سکولوں کے لیے خصوصی رعایتی فیس کا نظام متعارف کرایا جائے۔ مزید برآں نجی تعلیمی اداروں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آپریشنل اخراجات کے پیش نظر سالانہ بنیادوں پر کم از کم 10 فیصد تک مناسب فیس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی جائے تاکہ وہ تعلیمی معیار اور مالی استحکام برقرار رکھ سکیں۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفد کے مؤقف کو توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ نجی تعلیمی اداروں کے جائز تحفظات اور سفارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ایسا متوازن اور منصفانہ حل نکالا جا سکے جو طلبہ، والدین، نجی تعلیمی اداروں اور قومی تعلیمی نظام، سب کے بہترین مفاد میں ہو۔ آل پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزارتِ تعلیم نجی تعلیمی اداروں کو قومی تعلیمی ترقی میں حقیقی شراکت دار تسلیم کرتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔