قاتل کو مبینہ طور پر غیرقانونی ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،سلامت اللہ خان روکھڑی

قاتل کو مبینہ طور پر غیرقانونی ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،سلامت اللہ خان روکھڑی
زیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں، پریس کانفرنس
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)ضلع خوشاب کے رہائشی سلامت اللہ خان نیازی روکھڑی نے الزام عائد کیا ہے کہ انکے بھائی کےقتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ایک قیدی کو حفظِ قرآن کی بنیاد پردو سال کی تعلیمی معافی دلوانے کے لیے جیل انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام معاملے کا نوٹس لیں،شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کریں گے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںاپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلامت اللہ خان روکھڑی نے کہا کہ ان کے بھائی کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ قیدی حسن رضا اڈیالہ جیل میں قید ہے اور انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اسے حفظِ قرآن کی بنیاد پر تعلیمی معافی دے کر سزا میں رعایت دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو شکایات درج کروائیں جس پر ڈی آئی جی جیل خانہ جات کی سطح پر انکوائری بھی ہوئی۔ ان کے مطابق انکوائری کے دوران مختلف دستاویزات، گواہوں کے بیانات اور مدرسے کا ریکارڈ پیش کیا گیا، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قیدی نے جیل سے قبل حفظِ قرآن مکمل کر رکھا تھا اور اس حوالے سے اس کے اساتذہ، کلاس فیلوز اور مدرسے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔سلامت اللہ خان روکھڑی نے کہا کہ اگر کسی شخص نے جیل سے پہلے حفظِ قرآن مکمل کیا ہو تو اسے اس بنیاد پر وہ رعایت نہیں ملنی چاہیے جو جیل کے دوران حفظِ قرآن مکمل کرنے والے قیدیوں کو دی جاتی ہے، اس معاملے میں شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو۔انہوں نے الزام لگایا کہ تمام شواہد اور ریکارڈ پیش کیے جانے کے باوجود سزا یافتہ قیدی کو ریلیف دینے کی کوشش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول کے اہل خانہ پہلے ہی ایک عزیز کے نقصان کا دکھ برداشت کر چکے ہیں اور اب اگر سزا میں غیرقانونی رعایت دی گئی تو یہ ان کے ساتھ مزید زیادتی ہوگی۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، محکمہ داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور تمام فریقین کو سنا جائے۔پریس کانفرنس کے دوران سلامت اللہ خان روکھڑی نے کہا کہ اگر ان کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کریں گے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔