ورکرز و سپورٹرز کی بڑی تعداد کی سیاسی مشاورتی اجلاس میں شرکت، شرکاء نے بائیکاٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سائیں ذوالفقار کو حتمی فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ دے دیا
اسلام گڑھ(نامہ نگار) صدر پاکستان تحریک انصاف ضلع میرپور سائیں ذوالفقار علی چوہدری کی رہائش گاہ کنیلی میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے ایک اہم سیاسی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ورکرز، سپورٹرز اور مقامی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر الیکشن کے بائیکاٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے سائیں ذوالفقار علی چوہدری کو مکمل مینڈیٹ دیا کہ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے، وہی حتمی اور قابل قبول ہوگا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں انتخابات کا بائیکاٹ ہی سب سے مناسب اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان تحریک انصاف ضلع میرپور سائیں ذوالفقار علی چوہدری نے کہا کہ انہوں نے حلقہ چکسواری سے تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا اور عوام نے ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا، جو ان کے اعتماد کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لوگ اپنے ذاتی اخراجات پر آ کر صرف سائیں ذوالفقار کو ووٹ دیتے تھے، جبکہ اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف نے انہیں میرپور شہر سے انتخابی ٹکٹ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ کے افسوسناک حالات کے باعث پاکستان تحریک انصاف نے ایسے انتخابات کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا جہاں پرامن ماحول میسر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جن ساتھیوں تک اجلاس کی اطلاع نہیں پہنچ سکی، ان سے وہ اور تمام کارکن معذرت خواہ ہیں۔
سائیں ذوالفقار علی چوہدری نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر انتخابات ملتوی کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ باشعور اور اہل لوگوں نے بھی الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ایسے ماحول میں انتخابات عوامی مفاد میں نہیں۔
انہوں نے سابق عوامی نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ممبران اسمبلی عوام کو بجلی کے بل جمع کرانے کا کہتے رہے، جبکہ عام آدمی نے اپنی جدوجہد سے بجلی سستی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنا ووٹ ایسے امیدوار کو دینا چاہیے جو غریب کے دکھ درد کو سمجھتا ہو۔
سائیں ذوالفقار علی چوہدری نے کہا کہ عوام کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انتخابات لڑنے والے امیدواروں نے اپنے علاقوں کے لیے کیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملوٹ میں آج بھی پانی کا مسئلہ موجود ہے جبکہ مواہ اور کنیلی جیسے علاقے شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں مزید افراتفری کا ماحول پیدا کرنا عوام کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے راولاکوٹ کے عوام اور تمام اداروں کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں پارٹی قیادت بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لیتی ہے تو اس وقت نئی ہدایات کے مطابق لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا، اس لیے کارکنان انتظار کریں اور کسی قسم کا انفرادی فیصلہ نہ کریں، کیونکہ ذاتی فیصلے پارٹی پالیسی کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے ایک مرتبہ پھر الیکشن کے بائیکاٹ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پارٹی قیادت کے آئندہ فیصلوں پر متحد رہیں گے۔





