اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے انسداد تجاوزات آپریشنز کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے کے واضح احکامات اور ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ انم فاطمہ کی خصوصی ہدایت پر بلاتفریق کارروائیوں میں نمایاں تیزی لائی گئی ہے۔
عوامی شکایات کا ازالہ سی ڈی اےنے
گزشتہ روز انفورسمنٹ کی ٹیم نے آئی الیون اور آئی جے پی روڈ پر بڑے پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے روڈ اور فٹ پاتھوں پر قائم مکینکل سپیئر پارٹس کی دکانوں، ہیوی مشینری اور دیگر تجاوزات کا خاتمہ کر دیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب خان کی سربراہی میں انسپکٹر اور عملے نے شکایات کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے روڈ پر پڑا تمام سامان ضبط کر کے ٹرکوں میں لوڈ کر کے متعلقہ سی ڈی اے سٹور منتقل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے گزشتہ ہفتوں میں ایریا آئی نائن، ٹین اور الیون سمیت دیگر حساس پوشیدہ مقامات پر بھی اسی طرح کی کارروائیاں کیں تھیں۔ جہاں سے کئی باڑے جھگیوں کے علاؤہ چھپر ھوٹل بھی مسمار کئے گئے تاہم مقصد شہریوں کے لیے سڑکوں کو رواں دواں بنانا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں آئی جے پی روڈ سے مکینکل پارٹس، گاڑیوں کے دروازے، بونٹ، انجن کے پرزے اور دیگر سامان قبضے میں لیا گیا جس سے روڈ کافی حد تک کلیئر ہو گئی۔
ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ انم فاطمہ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب خان اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑی تجاوزات کے خاتمے اور ہیوی ٹریفک کی روانی بحال کرنے پر ٹیم شاباش کی مستحق ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ بھی شہر کے مختلف سیکٹرز میں سخت نگرانی رکھی جائے اور کسی کو بھی روڈ، فٹ پاتھ یا سرکاری جگہ پر قبضے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انم فاطمہ نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف علامتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی۔ "بلاتفریق اور بلا امتیاز” کارروائیوں کا سلسلہ تمام ایریاز میں یکساں رفتار سے چلایا جارہا ہے تاکہ اسلام آباد کو حقیقی معنوں میں صاف ستھرا اور تجاوزات سے پاک بنایا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور کسی بھی غیر قانونی قبضے کی فوری اطلاع سی ڈی اے کو دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بڑے آپریشنز متوقع ہیں تاکہ شہر بھر میں ٹریفک کی روانی اور شہری سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔





