توانائی شعبے میںجامع اصلاحات کی ضرورت،ساختی کمزوریاں دور کی جائیں، ماہرین

پیٹرولیم لیوی کے بوجھ، گردشی قرضے اور کاربن فنانسنگ کا ازسرنو جائز لیا جائے، موسمیاتی مالیاتی خلا پر ماہرین کی تشویش

توانائی سرمایہ کاری کو پائیداری، سستی فراہمی اور ساختی اصلاحات کے اہداف سے ہم آہنگ کیا جائے ، ڈاکٹر عابد و دیگر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر  ) ماہرینِ توانائی، معیشت، موسمیاتی پالیسی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بجٹ کے بعد منعقدہ ایک اہم مکالمے میں پاکستان کے توانائی شعبے کیلئے جامع اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ شرکاءنے کہا کہ آئندہ مالی منصوبہ بندی کو بجلی کے نظام کی جدید کاری، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، برقی ٹرانسپورٹ کی طرف منتقلی اور موسمیاتی مالی تحفظ کے واضح فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے کیونکہ موجودہ مالی ڈھانچہ نہ صرف توانائی کے بحران کو بڑھا رہا ہے بلکہ موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں پاکستان کی کمزوری کو بھی گہرا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ بجٹ منصوبہ بندی میں بجلی کے نظام کی جدید کاری، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، موسمیاتی مالی وسائل، ٹرانسپورٹ کی بجلی پر منتقلی اور انتظامی اصلاحات کو ترجیح دی جائے۔یہ سفارشات ایک بعد از بجٹ مکالمے میں پیش کی گئیں”توانائی کے شعبے کی مالی تقسیم اور پالیسی ترجیحات“ کے موضوع پر اس مکالمہ کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی پائیدار ترقی اور پاکستان قابلِ تجدید توانائی اتحاد نے منعقد کیا تھا۔ اس میں شرکاءنے وفاقی بجٹ کے توانائی کے شعبے، موسمیاتی مضبوطی اور مالی استحکام پر اثرات کا جائزہ لیا۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ توانائی میں سرمایہ کاری کو پائیداری، سستی توانائی کی فراہمی اور موسمیاتی مضبوطی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی منصوبہ بندی کو پاکستان کے طویل المدتی توانائی کے بدلاو کی حمایت کرنی چاہئے اور ساتھ ہی بجلی کے شعبے کی ساختی کمزوریوں کو بھی دور کرنا چاہئے۔معاشی نقط نظر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ایک ایسا محصول بن چکا ہے جو کم آمدنی والے طبقات پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس نظام کا قومی مالیاتی کمیشن کے فریم ورک میں دوبارہ جائزہ لیا جائے اور کاربن لیوی سے حاصل آمدنی کو موسمیاتی اور سبز سرمایہ کاری کےلئے مخصوص کیا جائے۔انہوں نے بجلی کے شعبے کی مسلسل کمزوریوں جیسے گردشی قرضہ، لائن لاسز اور کمزور وصولیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر حکمرانی، ہدفی سبسڈی اور شفاف مالی نظام کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے توانائی یونٹ کے سربراہ عبیدالرحمن ضیا نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کے لیے ترقیاتی پروگرام میں 116.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں 88 ارب روپے بجلی کے شعبے اور 28.2 ارب روپے پن بجلی منصوبوں کےلئے ہیں۔ انہوں نے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر اور بیٹری ذخیرہ نظام کی فنڈنگ کو بجلی کے نظام کی جدید کاری کی طرف مثبت قدم قرار دیا۔پاکستان قابلِ تجدید توانائی اتحاد کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس عبدالرحمن نے بیٹری ذخیرہ نظام کے منصوبے کے لیے صرف 500 ملین روپے کی مختصر رقم پر تشویش ظاہر کی جبکہ اس کے لئے تقریباً 112 ارب روپے درکار تھے۔انہوں نے برقی گاڑیوں اور شمسی نظام میں استعمال ہونے والی بیٹریوں پر غیر مستقل ٹیکس پالیسیوں کو مقامی صنعت کی ترقی کے لئے رکاوٹ قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے کہا کہ موسمیاتی اخراجات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو ترقیاتی پروگرام میں صرف 2.48 ارب روپے ملے ہیں جو ملک کی بڑھتی ہوئی موسمیاتی کمزوریوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کی ترقی زیادہ تر شہریوں اور مارکیٹ کی طلب کی وجہ سے ہوئی ہے ۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ بدر عالم نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اب حکومت کی بڑی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے اور گزشتہ برسوں میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان ہوں نے کہا کہ یہ نظام مالی وفاقیت کو کمزور کرتا ہے اور عوام پر غیر متوازن بوجھ ڈالتا ہے۔ایک اور ماہر نے گیس کے شعبے میں گردشی قرضے کے بڑھتے ہوئے بحران کی نشاندہی کی جو تقریباً 3.44 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اصلاحات، بہتر انتظام اور طلب کے بہتر نظم کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ مالی پالیسیوں کو پاکستان کے موسمیاتی اہداف اور توانائی کے بدلاو سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں برقی توانائی کی طرف منتقلی پر بات کرتے ہوئے انسڈس کنسورشیم کے شاہد شاہ جیلانی نے برقی گاڑیوں کے دو اور تین پہیوں کے منصوبے کے لئے 9 ارب روپے کی منظوری کا خیر مقدم کیا لیکن چارجنگ انفراسٹرکچر کے لئے علیحدہ فنڈنگ کی کمی اور روایتی ایندھن سے جڑے مزدوروں کے لئے منتقلی کے منصوبے کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔اختتامی نشست میں مرکز برائے امن و ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے میکرو اکنامک استحکام کی پیش رفت کو تسلیم کیا انہوں نے خبردارکیا کہ بڑھتے ہوئے جاری اخراجات اور منصوبوں کی مالی ذمہ داریاں ترقیاتی اخراجات کو محدود کر رہی ہیں۔انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں میں بجٹ پر کمزور نگرانی پر تنقید کی اور شفافیت، جواب دہی اور عوامی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر ہدایت کار جواد شریف کی دستاویزی فلم ”شمسی“ پر گفتگو ہوئی جس میں جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں غیر منقطع شمسی توانائی کے ذریعے زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کو دکھایا گیا ہے۔ شرکاءنے کہا کہ یہ فلم ظاہر کرتی ہے کہ مقامی سطح پر قائم قابلِ تجدید توانائی کے حل روزگار، زرعی پیداوار اور موسمیاتی مضبوطی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔