فشریز شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ، برآمدات بڑھانے کیلئے 30 روزہ ایکشن پلان طلب

کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا اجلاس، زائد ضوابط کے خاتمے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

اسلام آباد (سردار یوسف خان)

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پانچویں ریگولیٹری ریفارمز پیکج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر جام کمال خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان، متعلقہ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران فشریز اور ڈیری شعبوں میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ فشریز سیکٹر میں 55 مختلف ریگولیٹری تقاضے موجود ہیں جبکہ 77 فیصد ضوابط میں غیر ضروری دہراؤ پایا جاتا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ زائد ضوابط فشریز سیکٹر کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، حالانکہ اس شعبے میں دو ارب ڈالر تک کی برآمدی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو 30 روز کے اندر اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ مختلف اداروں کے اختیارات میں تداخل اور قواعد و ضوابط کے غیر ضروری دہراؤ کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ فشریز پاکستان کا ایک اہم معاشی شعبہ ہے، تاہم موجودہ نظام میں متعدد خامیاں پائی جاتی ہیں جنہیں دور کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
ریگولیٹری اصلاحات کے بین الاقوامی ماہر اسکاٹ جیکبز نے اجلاس کو بتایا کہ موجودہ ریگولیٹری نظام بنیادی طور پر ریگولیٹرز کی سہولت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
اجلاس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سادہ کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کی تجاویز پر اتفاق کیا گیا۔ خصوصی اقتصادی زونز میں جوائنٹ وینچرز کی اجازت دینے پر بھی اصولی اتفاق رائے سامنے آیا۔
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ جوائنٹ وینچرز کے فروغ سے غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس میں کشتیوں کی رجسٹریشن، ماہی گیری کے اجازت ناموں اور بندرگاہی چارجز کے نظام کو آسان بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں تاکہ کاروباری لاگت میں کمی اور برآمدی عمل میں تیزی لائی جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی۔ ڈیری اور بیوریجز سیکٹر سے متعلق اصلاحات پر مزید غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔