بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اڑھائی لاکھ خواتین کی ڈیجیٹل مالیاتی تربیت مکمل

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی نے منصوبہ جرمن ادارے اوریورپی یونین کے تعاون سے مکمل کیا، ٹیم کو خراج تحسین

ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کا منصوبہ خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں اہم پیش رفت ہے، ڈاکٹر عابد کا خطاب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں دو لاکھ پچپن ہزار سے زیادہ مستحق خواتین کی ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی تربیت کامیابی سے مکمل کرنے کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں مقررین نے اس منصوبے کو پاکستان میں خواتین کی مالی خودمختاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کا یہ منصوبہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے، خصوصاً اس لئے کہ اس کے ذریعے بڑی تعداد میں خواتین کو جدید مالیاتی نظام سے جوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی تربیت اور صلاحیت سازی اکثر رسمی تعلیم سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ معاشرے کے مختلف طبقات تک براہِ راست پہنچتی ہے۔انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کو ہدایت کی کہ اس دوران سامنے آنے والی کامیاب کہانیوں، تجربات اور درپیش چیلنجز کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے تاکہ یہ مواد مستقبل میں سماجی تحفظ اور عوامی فلاح کے شعبے میں تحقیق کے لیے ایک قیمتی حوالہ بن سکے۔اس منصوبے کی سربراہ اور ایس ڈی پی آئی کے سینٹر فار ایویڈنس ایکشن اینڈ ریسرچ کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے بتایا کہ جرمنی کے ترقیاتی ادارے GIZ اور یورپی یونین کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2023 میں ایک محدود پائلٹ پروگرام کے طور پر آغاز ہوا تھا جو بعد ازاں ملک کے چاروں صوبوں تک پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 سے شروع ہونے والا دوسرا مرحلہ مقررہ اہداف کے مطابق کامیابی سے مکمل کیا گیا جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی کامیابی میں پنجاب میں ڈاکٹر کامران خان، خیبر پختونخوا میں انعم ملک اور سندھ و بلوچستان میں عفت نے بطور صوبائی رابطہ کار اہم کردار ادا کیا جبکہ فیلڈ کوآرڈینیٹر عاطف اور شریک سربراہ ڈاکٹر اسماءفیاض نے بھی منصوبے کی موثر نگرانی کی۔ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے مزید کہا کہ اس قومی پروگرام میں تقریباً 250 تربیت کار، 40 امپلیمنٹیشن کوآرڈینیٹرز اور 30 رکنی کوالٹی ایشورنس ٹیم نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے دوران ہونے والے تمام انٹرویوز کا مکمل آڈیو آڈٹ کیا گیا جبکہ آئی ٹی ماہر حماد نے آٹھ ملین سے زائد ریکارڈز پر مشتمل ڈیٹا بیس کا انتظام سنبھالا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی آئی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے درمیان یہ سرگرمی خوش اسلوبی سے مکمل ہوئی۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے منصوبے کی کامیابی پر ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خاندانوں تک براہِ راست پہنچ کر کام کرنا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم ٹیم نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں یہ ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایس ڈی پی آئی کے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور سماجی اثرات کے نمایاں منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی موثر قیادت، واضح حکمت عملی اور پوری ٹیم کی غیر معمولی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے منصوبے کی سربراہ کی قیادت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کامیابی کا سہرا تمام ساتھیوں کی مشترکہ کاوشوں کو دیا جانا چاہئے۔تقریب کے اختتام پر منصوبے کی کامیاب تکمیل کا جشن مناتے ہوئے کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے منصوبے کی سربراہ، سینئر کنسلٹنٹ، صوبائی رابطہ کاروں، فیلڈ اسٹاف، امپلیمنٹیشن کوآرڈینیٹرز اور کوالٹی ایشورنس ٹیم کے ارکان میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔