شواہد چھپانے یا تبدیل کرنے کی کوشش میں ملوث عناصر کی بھی تحقیقات کی جائیں، شیعہ رہنماء
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے میر رضا علی کے بہیمانہ قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ میر رضا علی کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کیا گیا، جبکہ مقتول کے والدین اور وکیل پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔ دوسرے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والے تشدد کے درجنوں مبینہ شواہد نے معاملے کی سنگینی مزید واضح کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد چھپانے، تبدیل کرنے یا تفتیش کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ پولیس اور متعلقہ حکام کے کردار کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور اگر کوئی افسر یا اہلکار ملوث پایا جائے تو اسے بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مطالبہ کیا کہ دونوں پوسٹ مارٹم رپورٹس، فرانزک شواہد، گواہوں کے بیانات اور پولیس ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لے کر میر رضا علی کے قتل میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقتول کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر مزید خاموشی یا تاخیر قابلِ قبول نہیں۔





