وفاقی دارالحکومت میں ہر قسم کے ٹریڈ لائسنس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے پر تمام ادارے یکساں عمل درآمد کریں
ڈائریکٹر ڈی ایم اے ٹریڈ لائسنس کا اجرا روک چکیں ، فوڈ اتھارٹی اور ایکسائز بھی نوٹیفکیشن جاری کریں
چیف کمشنر اسلام آباد فوری مداخلت کرکے تاجروں کو غیر ضروری لائسنسنگ اور پروفیشنل ٹیکس کے نوٹسز سے نجات دلائیں
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد خالد چوہدری نے چیف کمشنر اسلام آباد لیفٹیننٹ سہیل اشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ICT) میں ہر قسم کے ٹریڈ لائسنس ختم کرنے کے فیصلے پر تمام متعلقہ اداروں میں یکساں طور پر عمل درآمد کرایا جائے اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے کاروباری لائسنس اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پروفیشنل ٹیکس کے تحت جاری کیے جانے والے لائسنس/نوٹسز کا اجرا بھی فوری طور پر روکا جائے۔
خالد چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں ہر قسم کے ٹریڈ لائسنس ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ڈائریکٹر ڈی ایم اے نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرکے ٹریڈ لائسنسوں کا اجرا روک دیا ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد فوڈ اتھارٹی اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تاجروں سے اسی نوعیت کے لائسنس یا پروفیشنل ٹیکس کے نام پر لائسنسنگ کا تقاضا جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے چیف کمشنر اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ چونکہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ بھی اسلام آباد انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں کام کرتے ہیں، اس لیے حکومتی فیصلے کی روشنی میں دونوں اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں اور فوڈ اتھارٹی کے لائسنس اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیشنل ٹیکس سے متعلق لائسنسوں اور نوٹسز کا اجرا فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی شہر میں ایک حکومتی ادارے کی جانب سے ٹریڈ لائسنس ختم کرنا جبکہ دوسرے اداروں کی جانب سے مختلف ناموں سے لائسنسنگ کا سلسلہ جاری رکھنا تاجروں کے لیے شدید ابہام اور مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اگر حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں کاروبار کو غیر ضروری لائسنسنگ سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس پالیسی کا اطلاق تمام متعلقہ محکموں پر بلاامتیاز اور یکساں طور پر ہونا چاہیے۔
خالد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے تاجر قانون کی مکمل پاسداری پر یقین رکھتے ہیں اور فوڈ سیفٹی سمیت تمام ضروری قوانین پر عمل درآمد کے حامی ہیں، لیکن کاروباری برادری پر ایسے لائسنس یا مالی ذمہ داریاں عائد نہیں کی جانی چاہییں جو حکومت کی موجودہ پالیسی سے متصادم ہوں۔ آئے روز مختلف محکموں کی مختلف ہدایات سے تاجروں میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے قیام اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے جبکہ درخواست میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ آبزرویشنز کا حوالہ دیتے ہوئے ادارے کے قیام سے متعلق قانونی اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے کا حتمی فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، تاہم اس دوران تاجروں کے لیے لائسنسنگ کے حوالے سے واضح حکومتی پالیسی اور قانونی طریقۂ کار ہونا ضروری ہے۔
خالد چوہدری نے چیف کمشنر اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ تاجروں میں پائی جانے والی بے یقینی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر واضح نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے کاروباری لائسنس کا اجرا روکا جائے، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو پروفیشنل ٹیکس کے لائسنس اور نوٹسز جاری کرنے سے روکا جائے اور وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق پورے اسلام آباد میں ایک ہی واضح، شفاف اور یکساں پالیسی نافذ کی جائے۔





