حسن اختر کی خود نوشت دراصل تحریکِ پاکستان کی سوانح عمری ہے۔ ڈاکٹر محمد سلیم مظہر
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) پاکستان کلچرل فورم، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ممتاز صحافی،تحریکِ پاکستان کے نمایاں کارکن دانشور اور سفارت کار حسن اختر گردیزی کی کتاب ’’مثنوی پیر چنگی‘‘ کی تقریبِ رونمائی ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک اور قومی ترانے سے کیا گیا۔
تقریب کے صدر جناب سردار مسعود حسین نے کہا کہ معیاری کتب کسی بھی معاشرے کے فکری سرمائے میں اضافہ کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حسن اختر گردیزی کی یہ تصنیف اُردو ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے اور نئی نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ حسن اختر گردیزی کی یہ کتاب اُن کی زندگی کی روداد ہے ۔جس میں انھوں نے تحریک پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنی صحافیانہ زندگی کے بارے میں بھی لکھا ہے۔حسن اختر کی ساری زندگی پاکستان کی خدمت میں گذری، وہ بہت دلا آویزشخصیت کے مالک ، نرم گفتار اور محبتیں بانٹنے والےتھے۔مہمانِ اعزاز پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان اہلِ قلم کی علمی و ادبی،تحقیقی اور ثقافتی خدمات اور قومی زبان اُردو کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف معیاری کتابوں کا تعارف کراتی ہیں بلکہ ادبی مکالمے کو بھی تقویت دیتی ہیں۔حسن اختر گردیزی کی یہ خود نوشت دراصل تحریکِ پاکستان کی سوانح عمری ہے۔ جس میں تحریک پاکستان اور اُن کی زندگی کی جدوجہد کا عکس نظر آتا ہے۔ اُنھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب قارئین، محققین اور ادب سے وابستہ افراد کی علمی ضرورتوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
افضل بٹ، صدر آل پاکستان یونین آف جرنلسٹس، نے کہا کہ حسن اختر گردیزی کے گم شدہ اواراق کو یکجا کر کے اس کتاب کی صورت میں شائع کر نا اُن کے بھائی نے بڑا کارنامہ ہے۔ اسی طرح ہمیں اُن کے اہم شخصیات سے کیے گئے انٹرویوز کو بھی یکجا کر کے شائع کرنا چاہیے۔حسن اختر کی اس کتاب سے آج کے صحافی کو رہنمائی ملے گی ۔ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ انھیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اعجاز شفیق گیلانی نے کہا کہ حسن گردیزی تحصیل نور پور ضلع کانگڑہ میں پیدا ہوئے جو پاکستان کا حصہ تو نہ بن سکا مگراُس کے باشندے حسن اختر گردیزی پاکستان کا حصّہ بنے اور دل و جان سے اس ملک کی خدمت کی۔ حسن اختر روشن آنکھ ہونے کے ساتھ ساتھ روشن خیال بھی تھے۔ حسن اختر گردیزی کے بھائی سید حسن جاوید گردیزی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی میرے لیے والد کا درجہ رکھتے تھے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ، بہادر، نڈر، ایمان دار اور نہایت فرض شناس انسان تھے اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔وہ اسلام آباد میں میٹرو کی سٹرک کی تعمیر اور پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔حسن گردیزی کے بھائی کے پوتے سید موسی حسن گردیزی نے کہا کہ آج کی محفل میں میرے خاندان کے تمام بزرگ افراد موجود ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اختر دادا کی وفات کے بعد بھی اُن کا فیضِ عام جاری اور روز افزوں ہے۔پاکستان کلچرل فورم کے چیئرمین جناب ظفر بختاوری نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حسن اختر گردیزی کی یہ کتاب سن 45، 46 اور 47 کی تحریکِ آزادی کا آنکھوں دیکھا قصّہ ہے جس میں اُنھوں نے تحریک پاکستان کی تاریخ بیان کی ہے۔ حسن اختر نے کئی مقتدر شخصیات کے ساتھ کام کیا اور اُن کے انٹرویوز بھی کیے۔ اُنھوں نے ساری زندگی قلم کی حرمت کو برقرار رکھا۔
تقریب میں بڑی تعداد میں حسن اختر گردیزی کے قرابت داروں، ادباء،شعراء، دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اورعلم و ادب دوست افراد نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کو حسن اختر گردیزی کی کتاب بطور تحفہ پیش کی گئی ۔آخر پر مہمانوں کی چائے سےپذیرائی کی گئی۔





