شمسی توانائی پر ٹیکس اور کاربن لیوی پالیسی پر نظرثانی ،عالمی مالیاتی نظام کو موسمیاتی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے
کاربن لیوی کی آمدن صرف موسمیاتی منصوبوں کے لئے مختص،موسمیاتی مالیات کو موسمیاتی لچک کا ذریعہ بنایا جائے، ماہرین
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) ماہرین نے کہا کہ آئی ایم ایف کے موسمیاتی پروگراموں کو پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات اور قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی سے ہم آہنگ کیا جائے جبکہ شمسی توانائی پر ٹیکس، کاربن لیوی کے استعمال اور دیگر مالیاتی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کو موسمیاتی حقائق کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) میں ایک تحقیقی مطالعے کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پائیدار ترقی اور مشکلات سے نمٹنے کی مالی سہولت(RSF) معاہدہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ آئی ایم ایف کے موسمیاتی مالیاتی پروگراموں کو پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات، قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی اور منصفانہ معاشی اصلاحات سے ہم آہنگ کیا جائے کیونکہ موجودہ مالیاتی ڈھانچہ ایک طرف موسمیاتی لچک بڑھانے کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب شمسی توانائی پر ٹیکس، بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور دیگر مالیاتی اقدامات کے ذریعے صاف توانائی کے فروغ اور کم آمدنی والے طبقے کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلیکٹو فار سوشل سائنس ریسرچ (CSSR) ڈاکٹر اسد سعید، کراچی اور ریسرچ فیلو، ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر خالد ولید کی اس مشترکہ تحقیق میں پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کی 1.4 ارب ڈالر مالیت کی پائیدار ترقی اور مشکلات سے نمٹنے کی مالی سہولت (RSF) اور اس کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) سے تعلق کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ یہ تحقیق پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی پائیدار ترقی اور مشکلات سے نمٹنے کی مالی سہولت (RSF) سے پہلے استفادے کا اہم پالیسی جائزہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ابتدا میں اسے زرمبادلہ کے بحران سے نمٹنے کےلئے ایک مالی سہولت سمجھا تاہم اس کے اثرات موسمیاتی لچک، پائیدار ترقی اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے معاشی اثرات کے اعتراف کے باوجود عالمی مالیاتی نظام میں مزید اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی ایم ایف کے موسمیاتی پروگراموں کو دیگر معاشی اصلاحات سے ہم آہنگ کیا جائے کیونکہ شمسی توانائی پر ٹیکس جیسے اقدامات قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور موسمیاتی اہداف سے متصادم ہیں۔تحقیقی مطالعہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسد سعید نے کہا کہ پاکستان کو درپیش ادائیگیوں کے توازن کا بحران، موسمیاتی خطرات اور توانائی کی منتقلی کے چیلنجز موسمیاتی مالیات کو ایک اہم پالیسی مسئلہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آر ایس ایف کا بنیادی مقصد موسمیاتی موافقت کےلئے براہِ راست سرمایہ کاری کے بجائے معاشی استحکام کے پروگرام کو تقویت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے شدید متاثرہ ملک کےلئے اس سہولت کے تحت دستیاب مالی وسائل ناکافی ہیں لہٰذا موسمیاتی مالیات کو صرف وقتی مالی معاونت کے بجائے موسمیاتی کمزوریوں کی بنیادی وجوہات کے حل پر بھی مرکوز ہونا چاہئے۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، سبسڈی میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی پر ٹیکس جیسے اقدامات کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر غیر متناسب بوجھ ڈالتے ہیں اور توانائی کے منصفانہ حصول کو متاثر کرتے ہیں حالانکہ عالمی گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ RSF پر مذاکرات میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور صوبوں کی شمولیت محدود رہی جبکہ اصلاحات کے سماجی اثرات کا بھی جامع جائزہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے سفارش کی کہ کاربن لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن صرف موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے لئے مختص کی جائے، درآمدی شمسی آلات پر عائد ٹیکس ختم کیا جائے اور شمسی توانائی و بیٹری اسٹوریج کو اسٹریٹجک سرمایہ جاتی شعبہ قرار دے کر صاف توانائی کی منتقلی کو تیز کیا جائے۔تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کےلئے درآمدی شمسی آلات پر عائد ٹیکس سمیت تمام مالیاتی رکاوٹیں ختم کی جائیں جبکہ شمسی توانائی اور بیٹری ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کو اسٹریٹجک سرمایہ جاتی اثاثوں کا درجہ دے کر صاف توانائی کی منتقلی اور ملک کے طویل المدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔





