اسلام آباد،کوئٹہ میں دو کمسن بہنوں کے قتل کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج
پولیس کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا، انصاف فراہم کیا جائے، لواحقین کا مطالبہ
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) بلوچستان کے علاقے گلستان میں 13 اگست کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی دو کمسن بہنوں مہندی اور سہانا کے لواحقین نے سید زاہد زادہ کی قیادت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر مملکت، وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے فوری انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر سید زاہد زادہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی 16 اور 17 سالہ بیٹیوں کو بے دردی سے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، مگر افسوس کہ آج تک انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری بچیوں کا کیا قصور تھا؟ انہیں کیوں نشانہ بنایا گیا؟‘‘انہوں نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ان کی اہلیہ کو بھی آٹھ گولیاں لگیں، جبکہ ان کی دونوں نوجوان بیٹیاں بھی شہید ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر قبائلیوں کے باہمی تنازع کا نتیجہ ہے، جس میں ان کے خاندان اور بالخصوص معصوم نوجوان بچیوں کو نشانہ بنایا گیا۔سید زاہد زادہ نے کہا کہ واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے ان کے خاندان کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق فائرنگ میں استعمال ہونے والی یا واقعے سے متعلق گاڑی بھی تاحال ریکور نہیں کی جا سکی، جس سے تفتیشی عمل اور پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ ان کی نوجوان بیٹیاں کسی تنازع کا حصہ نہیں تھیں اور انہیں مبینہ قبائلی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقتول بچیوں کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مکمل قانونی اور ریاستی معاونت بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں کے قتل کا مقدمہ مؤثر انداز میں لڑ سکیں۔سید زاہد زادہ اور دیگر لواحقین نے صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف فیلڈ مارشل، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی کہ وہ اس المناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ملزمان کی گرفتاری اور شفاف تحقیقات کے احکامات جاری کریں۔مظاہرین نے واضح کیا کہ انہیں کسی قسم کا ذاتی انتقام نہیں بلکہ قانون اور آئین کے مطابق انصاف چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قاتلوں کو بروقت گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندان کا ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہوگا بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کے حوالے سے بھی منفی پیغام جائے گا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے مقتول بچیوں کے لیے انصاف کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت و متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ مہندی اور سہانا کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔





