اسلام آباد میں چین کی طرز پر لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سنٹر قائم کیا جائے گا، محسن نقوی

پولیس افسران کی غیر ملکی تربیت کو مستقل پروگرام بنانے کا اعلان، جدید ڈرونز، خصوصی تفتیشی کمرے اور جدید انٹیروگیشن ٹیکنیکس متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے چین اور ترکیہ میں جدید پولیسنگ اور قانون نافذ کرنے سے متعلق تربیتی کورسز مکمل کرکے وطن واپس آنے والے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) نے ملاقات کی، جس میں جدید پولیسنگ، تفتیشی نظام اور پیشہ وارانہ استعداد کار میں اضافے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران اے ایس پیز نے غیر ملکی تربیتی کورسز کو پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے چین اور ترکیہ کے جدید پولیسنگ ماڈلز، سرویلنس سسٹمز، جدید ٹیکنالوجی، آلات کے استعمال اور امن و امان برقرار رکھنے کے مؤثر طریقہ کار سے متعلق اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس افسران کے لیے غیر ملکی تربیتی پروگرامز کو پیشہ وارانہ تربیت کا مستقل حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں چین کی طرز پر لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سنٹر کے قیام کے لیے پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا، جہاں حراست، تفتیش اور مختصر عدالتی کارروائی ایک ہی چھت تلے انجام دی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے معمولی نوعیت کے جرائم کے مقدمات کا فوری اور مؤثر تصفیہ ممکن ہوگا۔

محسن نقوی نے کہا کہ جدید پولیسنگ کے کامیاب عالمی ماڈلز سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے پولیس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، سرویلنس سسٹمز اور نگرانی کے جدید ذرائع کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ جرائم کی روک تھام اور مؤثر نگرانی کے لیے وزارت داخلہ کے ایوی ایشن ونگ میں جدید ڈرونز بھی شامل کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں خصوصی تفتیشی کمرے قائم کیے جائیں گے اور جدید پولیسنگ کی ضروریات کے مطابق سپیشلائزڈ انویسٹی گیشن ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹیروگیشن کو بطور خصوصی مضمون متعارف کرایا جائے گا اور ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کی بنیاد پر جدید تفتیشی تکنیکوں کو تربیتی نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس کے لیے آپریشنل ضروریات سے ہم آہنگ نئی یونیفارم بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ اہلکار جدید تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔

ملاقات میں کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور وزارت داخلہ کے متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔