بلوچستان کے طلبہ کو قومی اسمبلی میں انٹرن شپ کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے، اسپیکر ایاز صادق

پارلیمنٹ میں ملک کا پہلا اے آئی فعال نظام متعارف، ڈیجیٹلائزیشن سے قانون سازی اور انتظامی امور میں بہتری آئی ہے، طلبہ سے گفتگو

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کو قومی اسمبلی میں ترجیحی بنیادوں پر انٹرن شپ کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا قومی ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ملک کا پہلا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فعال پارلیمانی نظام متعارف کرایا جا چکا ہے، جس کے ذریعے قانون سازی، پارلیمانی تحقیق، انتظامی امور اور معلومات تک رسائی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈیجیٹل بلوچستان اے آئی لانچ پیڈ کے پانچ روزہ بوٹ کیمپ میں شریک طلبہ کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی بھی موجود تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں انٹرن شپ پروگرام کے تحت ملک کی 21 جامعات کے طلبہ کے لیے تربیتی کورسز جاری ہیں اور بلوچستان کے نوجوانوں کو اس پروگرام میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انہیں مساوی مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سردار ایاز صادق نے بلوچستان سے اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا نہایت اہم صوبہ ہے اور ریکوڈک منصوبہ اس صوبے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں بلوچستان سرفہرست ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مسلسل مطالعہ اور سیکھنے کی عادت اپنائیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2002ء میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا تفصیلی مطالعہ کیا، جس سے انہیں پارلیمانی امور کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی۔

اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ملازمتوں کے لیے تمام صوبوں کا مقررہ کوٹہ موجود ہے، جبکہ خصوصی افراد کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کی نمائندگی 30 فیصد تک بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایجنڈا، بلز، رپورٹس، کمیٹیوں کی دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی الیکٹرانک فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اراکین قومی اسمبلی کو ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی فراہمی کے ذریعے کاغذ سے پاک پارلیمانی نظام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس سے اخراجات میں کمی اور انتظامی امور میں تیزی آئی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پارلیمانی تحقیق، قانون سازی، بعد از قانون سازی جائزے، معلومات تک رسائی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، تاہم اے آئی انسانی ذہانت اور فیصلہ سازی کا متبادل نہیں بلکہ معاون ٹیکنالوجی ہے۔

اس موقع پر ٹیک ویلی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر فاروق نے ڈیجیٹل بلوچستان اے آئی لانچ پیڈ بوٹ کیمپ کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی، جبکہ طلبہ نے قومی اسمبلی میں ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے بلوچستان کے طلبہ کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، ٹیک ویلی پاکستان، وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور قومی ترقی میں ان کا کردار مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔