شر دھمیال اور سگا بنترار روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر برہمی، سی ڈی اے کو جاری منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا 28واں اجلاس چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز ایم این اے کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کرتے ہوئے زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
کمیٹی نے فوجداری ضابطہ (ترمیمی) بل 2025 اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 پر مزید غور مؤخر کر دیا، جبکہ ویسٹ پاکستان موٹر وہیکلز ٹیکسیشن (ترمیمی) بل 2025 کو فنانس ایکٹ 2026-27 کے ذریعے قانون سازی مکمل ہونے کے باعث واپس لیا ہوا تصور کرنے کی سفارش کی۔
اجلاس میں اسلام آباد کی شر دھمیال روڈ اور سگا بنترار روڈ کی تعمیر میں طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بجٹ کی کمی کو تاخیر کی وجہ قرار دیتے ہوئے وسائل کی دستیابی پر اضافی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کمیٹی نے نئی اسکیمیں شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے پر بھی زور دیا اور سی ڈی اے کو زوننگ قوانین اور بلڈنگ بائی لاز کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں خنہ ڈاک، خنہ کاک اور شکریال میں رجسٹری اور انتقالات پر پابندی کے معاملے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے پنجاب بورڈ آف ریونیو، کمشنر راولپنڈی اور دیگر متعلقہ حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرتے ہوئے اسلام آباد کو اراضی ریکارڈ کی منتقلی کے لیے واضح ٹائم لائن پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک، ارکان قومی اسمبلی، سی ڈی اے، ایف آئی اے، وزارت داخلہ، وزارت قانون، ضلعی انتظامیہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





