ایم ڈی کیٹ 16 اگست کو ہوگا، سالانہ فیس 18 سے 25 لاکھ روپے تک مقرر کرنے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت
اسلام آباد (اظہار خان نیازی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی ایم این اے کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ایم ڈی کیٹ 2026 کی تیاریوں، نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں اور فارمیسی شعبے میں اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر ایم ڈی کیٹ کے موجودہ پاسنگ مارکس برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاسنگ مارکس میں کسی قسم کی کمی کی مخالفت کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ 2026 کا انعقاد 16 اگست 2026 کو ہوگا۔ امتحان کے لیے سوالات کا بینک 6 ہزار سے بڑھا کر 8 ہزار کر دیا گیا ہے، جبکہ ہر صوبے کے لیے تین الگ الگ سوالیہ پرچے تیار کیے جائیں گے جن میں سے ایک پرچہ امتحان کے لیے منتخب ہوگا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ داخلوں میں میٹرک کے 10 فیصد، انٹرمیڈیٹ کے 40 فیصد اور ایم ڈی کیٹ کے 50 فیصد نمبر شامل ہوں گے۔ اب تک تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار طلبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ امتحان 180 کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل ہوگا، نیگیٹو مارکنگ نہیں ہوگی، دورانیہ تین گھنٹے ہوگا جبکہ ایم بی بی ایس کے لیے کم از کم 55 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
کمیٹی نے نجی میڈیکل کالجوں کی سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ سے 25 لاکھ روپے کے درمیان محدود کرنے کی سفارش کی اور ہدایت کی کہ نجی کالج اپنی فیسوں کا جواز پیش کریں۔ اس مقصد کے لیے فی طالب علم تعلیمی اخراجات کا تعین کرنے کی خاطر تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ساتھ 188 میڈیکل کالج رجسٹرڈ ہیں، جن میں 60 نجی ادارے شامل ہیں۔ نجی کالج سالانہ تقریباً 22 ہزار جبکہ سرکاری میڈیکل کالج 14 ہزار گریجویٹس تیار کر رہے ہیں۔
کمیٹی نے فارمیسی کونسل آف پاکستان کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فارمیسی کونسل رولز 1967 میں موجودہ تقاضوں کے مطابق ترامیم تیار کر کے اکتوبر 2026 میں کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، ارکان کمیٹی اور وزارت صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





