نیشنل لائبریری کی خراب حالت پر اظہارِ تشویش، نایاب مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے اور سرائیکی و جنوبی پنجاب کے ثقافتی ورثے کو زیادہ نمایاں کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں نیشنل لائبریری آف پاکستان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو فوری انتظامی اقدامات کی ہدایت کی گئی تاکہ لائبریری کی سہولیات، انتظامی امور اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان کے ثقافتی اداروں کو مزید مضبوط بنانے، ادبی ورثے کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے اور ملک کے تمام خطوں بالخصوص جنوبی پنجاب اور سرائیکی ثقافت کے فروغ پر زور دیا۔
اجلاس میں گزشتہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ قواعد و ضوابط اور قانونی فریم ورک میں بہتری کے لیے خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، متعدد قواعد کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ باقی تجاویز قومی اسمبلی میں زیر غور ہیں۔
نیشنل لائبریری آف پاکستان کے بارے میں بریفنگ کے دوران کمیٹی نے مالی مشکلات کے باوجود لائبریری کی ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کو سراہا، تاہم ارکان نے لائبریری کی ناقص صفائی، غیر معیاری سہولیات، انٹرنیٹ کی خراب دستیابی، غیر فعال انفراسٹرکچر اور انتظامی کمزوریوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ ان تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں لائبریری کے وزیٹرز، عملے، خالی آسامیوں، ممبرشپ اور اندرونی آمدن سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے نیشنل لائبریری کے نایاب مخطوطات، قانونی جمع شدہ کتب، آئی ایس بی این رجسٹریشن اور ادبی ورثے کے تحفظ میں کردار کو سراہتے ہوئے نایاب کتب و مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مزید تیز کرنے اور تحقیقی سہولیات کے ساتھ عوام کی رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں نیشنل ہیریٹیج میوزیم میں سرائیکی اور جنوبی پنجاب کے ثقافتی ورثے کی نمائندگی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے میوزیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ثقافتی نمائشوں میں اضافہ، ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ اور ہنرمندوں، دستکاروں اور نوجوانوں کو اپنی ثقافتی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں۔
پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) نے بھی موسیقی، تھیٹر، مصوری، ثقافتی پروگراموں، ورکشاپس، نمائشوں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ سے متعلق اپنی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے فنونِ لطیفہ کے فروغ میں پی این سی اے کے کردار کو سراہتے ہوئے ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے اور ثقافتی سرگرمیوں میں عوامی شرکت بڑھانے پر زور دیا۔
کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ادبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافتی اداروں کی مضبوطی، مؤثر اصلاحات، بہتر نظم و نسق اور وسائل کے شفاف استعمال کے ذریعے عوام کو تعلیمی اور ثقافتی سہولیات تک زیادہ سے زیادہ رسائی فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں شائستہ خان، شہناز سلیم ملک، رابعہ نسیم فاروقی، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، غزالہ انجم، سائرہ طرار، نعیمہ کنول، سنجے پروانی، نعیمہ کشور خان، محمد طفیل سمیت وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





