ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے، ٹیلی کام ٹاورز کے لیے متبادل توانائی کے استعمال اور موبائل فون کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کی سفارش
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا 23واں اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی ناقص صورتحال، موبائل فونز پر عائد ٹیکسز اور الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026ء کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی غیر تسلی بخش صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ نہ صرف دور دراز علاقوں بلکہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں بھی صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ اور کالز کے بار بار منقطع ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے بعد ملک میں دستیاب اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 754 میگا ہرٹز ہو گیا ہے، جس سے نیٹ ورک کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ملک کے 22 شہروں میں فائیو جی سروسز کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں موجودہ موبائل ٹاورز اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔ نئے فائیو جی انفراسٹرکچر کی مرحلہ وار تنصیب سے آئندہ 6 سے 8 ماہ میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی خرابی کی ایک بڑی وجہ موبائل ٹاورز کو بجلی کی عدم دستیابی قرار دیا۔ پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ سے ٹیلی کام خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر نیپرا اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے بھی ٹیلی کام ٹاورز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ہوا اور شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع اختیار کیے جائیں تاکہ ڈیزل پر انحصار کم ہو، اخراجات میں کمی آئے اور ماحول دوست نظام کو فروغ مل سکے۔
اجلاس میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 92 فیصد اسمارٹ فونز مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے جاتے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر ایپل آئی فون اور گوگل پکسل شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ درآمدی موبائل فونز پر وصول ہونے والے ٹیکس پی ٹی اے نہیں بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) وصول کرتا ہے، جبکہ پی ٹی اے ٹیکس ادا ہونے کے بعد صرف ڈیوائس کو ڈی آئی آر بی ایس نظام کے تحت رجسٹر اور وائٹ لسٹ کرتا ہے۔
کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ ایپل اور دیگر عالمی موبائل فون ساز کمپنیوں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ یا اسمبلنگ پلانٹس قائم کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ صارفین کو سستے اسمارٹ فونز میسر آئیں، سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
اجلاس میں الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026ء بھی زیر غور آیا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر پارٹی کی پارلیمانی لیجسلیٹو کمیٹی سے مشاورت نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل ہونے تک بل کو آئندہ اجلاس تک مؤخر رکھا جائے۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، رانا ارادت شریف خان، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی، شرمیلا صاحبہ فاروقی، پلین بلوچ سمیت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





