روس کو آلو کی فوری برآمد، مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے معیار سخت کرنے اور آم کی برآمدی پالیسی پر نظرثانی کی سفارش
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آلو کے بحران، آم کی برآمدات اور مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے معیار کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ روس نے 101 پاکستانی کمپنیوں کو آلو برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس پر کمیٹی نے اضافی آلو کا ذخیرہ فوری طور پر روس برآمد کرنے کی ہدایت دی تاکہ کسانوں کو مناسب قیمت مل سکے۔
کمیٹی نے مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے معیار مزید سخت کرنے، واضح وارننگ لیبل لگانے، اسکولوں اور اسپتالوں میں ایسے مشروبات کی فروخت روکنے، سہ ماہی لیبارٹری ٹیسٹنگ لازمی بنانے اور جوس میں پھلوں کے گودے کی کم از کم مقدار 10 فیصد مقرر کرنے کی سفارش کی۔
اجلاس میں آم کی برآمدات پر بھی غور کیا گیا اور سفارش کی گئی کہ برآمدی شیڈول صوبوں اور آم کی اقسام کے مطابق ترتیب دیا جائے، جبکہ وزارت کو آئندہ اجلاس سے قبل آم کی برآمدات سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔





