پاکستان عوامی قوت پارٹی کے سربراہ اور راول جنرل اینڈ ڈینٹل ہاسپٹل و راول فاؤنڈیشن کے چیئرمین خاقان وحید خواجہ نے کہا ہے کہ ہم وعدہ نہیں عمل کرتے ہیں

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) پاکستان عوامی قوت پارٹی کے سربراہ اور راول جنرل اینڈ ڈینٹل ہاسپٹل و راول فاؤنڈیشن کے چیئرمین خاقان وحید خواجہ نے کہا ہے کہ ہم وعدہ نہیں عمل کرتے ہیں پارٹی میں پورے پاکستان سے لوگ شامل ہو رہے ہیں یہ اس بات کی گواہی ہے کہ کئی برسوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں عوام کے وہ مسائل نہیں حل کر سکیں جو حقیقی معنی میں کرنے چاہیے تھے یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں پارٹی کے عہدے داروں مقامی رہنماؤں اور ورکرز کے اجلاس سے خطاب اور پارٹی میں شامل ہونے والے اٹک سے سماجی رہنما ڈاکٹر ملک یاسین کی شمولیت کے موقع پر کہی جبکہ ان سے میانوالی کے نامور وکیل اسامہ حسین جوئیہ۔ پنڈ بیگوال سے چوہدری ظفر۔ معروف انٹرنیشنل کرکٹر مسعود انور۔ فائنینشل ٹائمز کے صحافیوں کے کے ایک گروپ جس میں ڈاکٹر مجید نسیم حسن شامل تھے نے ملاقات کی ۔ چیئرمین پاکستان قومی قوت پارٹی سے یو سی 62 کھنہ ڈاک کے مکینوں کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی ۔جس میں انہوں نے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان مختلف وفود سے بات چیت میں چیئرمین پاکستان عوامی حکومت پارٹی خاقان وحید خواجہ نے کہا کہ عوامی سطح کے مسائل کو حل کرنا ہی ہمارا پارٹی منشور ہے اٹک میانوالی اور دیگر اضلاع سے جو لوگ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں وہ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں ہم پاکستان کے مختلف علاقوں میں جا کے پارٹی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک پالیسی دیں گے جس میں عام آدمی کے پاس طاقت آئے گی اس کے مسئلے سنے جائیں گے اس کے آئندہ نسلوں کے لیے کام ہوگا اور یہ کام پاکستان عوامی قوت پارٹی کرے گی۔ اس موقع پر پارٹی میں شامل ہونے والا اٹک سے سیاسی رہنما ڈاکٹر ملک یاسین نے کہا کہ میں اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود پاکستان عوامی قوت پارٹی کے کردار ۔کام اور عوام سے کیے گئے وعدے جو انہوں نے اپنے منشور میں دیے ہوئے ہیں وہ پورے کیے گئے ہیں وہ دیکھ کر شامل ہوا ہوں اور میں چیئرمین پاکستان عوامی قوت پارٹی کے بیانیے پر مطمئن ہوں اور میں اس پارٹی سے اپنے سیاسی کیریئر کو مزید تقویت دوں گا۔ میانوالی سے تعلق رکھنے والے نامور وکیل اسامہ حسین جوئیہ نے کہا کہ میانوالی میں ہم پاکستان عوامی قوت پارٹی کی جڑیں مضبوط کریں گے۔ پڑھا لکھا طبقہ اس پارٹی میں جوق در جوق شامل ہو رہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ عوام حقیقی معنوں میں نچلی سطح پہ تبدیلی چاہتے ہیں