افغان جرنیلوں، جج اور صحافیوں کی عارضی قیام کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

پشاور ہائیکورٹ نے دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا

پشاور(خالد خان)پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت کے لیے دائر افغان شہریوں کی مختلف درخواستوں پر سماعت کے بعد پانچ درخواست گزاروں کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کے کیسز وزارت داخلہ کو بھجوا دیے۔

کیس کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزاروں میں افغان صحافی، افغان سپریم کورٹ کے ایک جج، ملی اردو کے دو سابق جرنیل، امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افراد اور ایک فلاحی تنظیم کے رکن شامل تھے۔

درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، ان کے گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے، اس لیے مختلف ممالک میں دائر پناہ کی درخواستوں پر فیصلے تک انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔

عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ صرف افغان صحافیوں کو لیٹر آف ریکمنڈیشن جاری کیے گئے ہیں۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے پانچ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کے کیسز وزارت داخلہ کو ارسال کر دیے اور ہدایت کی کہ وزارت داخلہ دو ماہ کے اندر ان پر فیصلہ کرے۔