نجی تعلیمی ادارے ملکی تعلیمی نظام کا ناگزیر ستون ہیں، ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا, حکومت نجی و سرکاری شعبوں کی باہمی شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے

راولپنڈی(نیوز رپورٹر)

نجی تعلیمی ادارے ملکی تعلیمی نظام کا ناگزیر ستون ہیں، ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا, حکومت نجی و سرکاری شعبوں کی باہمی شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے: ڈاکٹر اقبال محمود
ایپسما شمالی پنجاب کے صدر ابرار احمد 20 رکنی وفد کی چیئرمین راولپنڈی تعلیمی بورڈ سے ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن (ایپسما) شمالی پنجاب کے صدر ابرار احمد خان کی سربراہی میں 20 رکنی وفد نے چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی ڈاکٹر اقبال محمود سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں بطور چیئرمین تعیناتی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سیکرٹری راولپنڈی تعلیمی بورڈ امجد اقبال خٹک، ڈویژنل صدر ایپسما ابرار احمد ایڈووکیٹ، ڈویژنل صدر خواتین ونگ مسز سکینہ تاج، تحصیل صدر راولپنڈی عدنان نثار، ڈویژنل فنانس سیکرٹری کامران سیف قریشی،طارق محمود، راجہ آصف، متین احمد، شیراز مغل، شیخ ندیم، محمد کامران، ریحان عباسی ،سرفراز احمد، انوار الحق سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ اس موقع پر چیئرمین کے پرسنل سیکرٹری محبوب احمد اور ترجمان راولپنڈی تعلیمی بورڈ ارسلان علی چیمہ بھی موجود تھے۔
ابرار احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے پاکستان میں فروغِ تعلیم، شرحِ خواندگی میں اضافے اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی شعبہ حکومت کا مضبوط شراکت دار اور تعلیمی نظام کا اہم اسٹیک ہولڈر ہے، اس لیے تعلیمی پالیسی سازی اور انتظامی امور میں نجی شعبے کی مشاورت اور نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایپسما کی جانب سے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس موقع پر چیئرمین راولپنڈی تعلیمی بورڈ ڈاکٹر اقبال محمود نے کہا کہ نجی تعلیمی شعبے کا کردار ناقابلِ تردید ہے۔ اگر نجی تعلیمی ادارے نہ ہوں تو ملکی اور صوبائی تعلیمی نظام کا بوجھ سنبھالنا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجی اداروں سے وابستہ افراد اپنی ذاتی سرمایہ کاری، مالی خطرات اور انتھک محنت کے ذریعے قوم کے بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جو ایک عظیم قومی خدمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں، طلبہ اور والدین کے ساتھ سہولت کارانہ اور مثبت رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی خدمات کو صرف مالی پیمانوں سے نہیں تولا جا سکتا بلکہ یہ قومی تعمیر و ترقی میں انمول سرمایہ ہیں۔
ملاقات میں تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنانے، امتحانی نظام میں بہتری، طلبہ کو سہولیات کی فراہمی، نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طلبہ کے روشن مستقبل، معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مشاورت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔