جنرل بس اسٹینڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں کا راج، شہریوں کا سوال

ایسے لگتا ہے جنرل بس اسٹینڈ کے اندر رینٹ اے کار کا کام شروع کر دیا گیا، پرائیویٹ گاڑیاں کیسے چل سکتی ہیں؟

پرائیویٹ گاڑیوں کی آمدورفت فور وہیکل آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے

ٹرانسپورٹرز کو بس اسٹینڈ سے نکالنے کی مبینہ سازش ناکام بنائی جائے، بڑے ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مشکلات کا شکار

ایڈمنسٹریٹر راولپنڈی و چیف کمشنر سلمان غنی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن عمران علی اور سیکرٹری آر ٹی اے اسد شیرازی فوری نوٹس لیں

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) جنرل بس اسٹینڈ راولپنڈی کے اندر پرائیویٹ گاڑیوں کی مبینہ آمدورفت اور پارکنگ نے انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں کا راج قائم کیا جا رہا ہے، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بس اسٹینڈ کے اندر رینٹ اے کار کا کاروبار شروع کر دیا گیا ہو۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے مخصوص ہے، تو پھر پرائیویٹ گاڑیاں وہاں سے کیسے چل سکتی ہیں؟ ان کے مطابق اگر بغیر اجازت پرائیویٹ گاڑیوں کو بس اسٹینڈ کے اندر داخل ہونے، کھڑا ہونے اور چلنے کی اجازت دی جا رہی ہے تو یہ متعلقہ قوانین اور فور وہیکل آرڈیننس کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
شہریوں نے کہا کہ جنرل بس اسٹینڈ کی موجودہ صورتحال پہلے ہی ٹرانسپورٹرز کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں پرائیویٹ گاڑیوں کو اندر جگہ فراہم کرنا ان ٹرانسپورٹرز کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے بھاری قرضوں اور اپنی جمع پونجی سے گاڑیاں خرید کر باقاعدہ ٹرانسپورٹ کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل بس اسٹینڈ کے اندر پرائیویٹ گاڑیوں کا راج فوری ختم کیا جائے، کیمروں کی ریکارڈنگ چیک کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ بس اسٹینڈ کے گیٹ پر نگرانی کے باوجود پرائیویٹ گاڑیاں اندر کیسے داخل ہو رہی ہیں اور انہیں اندر کھڑا کرنے کی اجازت کون دے رہا ہے۔شہریوں نے ایڈمنسٹریٹر راولپنڈی و چیف کمشنر سلمان غنی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن عمران علی اور سیکرٹری آر ٹی اے راولپنڈی اسد شیرازی سے فوری نوٹس لینے، معاملے کی تحقیقات کرانے اور غیر مجاز پرائیویٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔