ریستورانوں کے اوقاتِ کار رات ایک بجے تک بحال کیے جائیں، پابندیاں برقرار رہیں تو لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا,محمد فاروق چوہدری

راولپنڈی(سٹی رپورٹر)

ریستورانوں کے اوقاتِ کار رات ایک بجے تک بحال کیے جائیں، پابندیاں برقرار رہیں تو لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا,محمد فاروق چوہدری

ملک بھر میں ریستورانوں کے کاروبار پر عائد وقت کی پابندیوں نے فوڈ انڈسٹری کو شدید معاشی بحران سے دوچار کر دیا , کاروبار سکڑنے، ہزاروں ملازمین کے روزگار خطرے میں پڑنے اور نوجوان طلبہ کی پارٹ ٹائم ملازمتیں متاثر ہونے پر ریسٹورنٹس، کیٹررز، سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر محمد فاروق چوہدری نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ریستورانوں میں ڈائن اِن کے اوقاتِ کار رات 1:00 بجے تک بحال نہ کیے گئے تو نہ صرف بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ سینکڑوں کاروبار بند ہونے، حکومتی ٹیکس وصولیوں میں کمی اور پہلے سے مشکلات کا شکار فوڈ انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ریسٹورنٹس، کیٹررز، سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر محمد فاروق چوہدری نے یہ مطالبہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ممتاز احمد اور سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد نعیم کے ہمراہ اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پابندیاں صرف ریستوران مالکان ہی نہیں بلکہ لاکھوں ویٹرز، شیفس، کچن اسٹاف، ڈیلیوری ورکرز، صفائی عملے اور ان ہزاروں نوجوان طلبہ کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں جو اپنی تعلیم، فیسوں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ریستورانوں میں پارٹ ٹائم ملازمت کرتے ہیں۔ محمد فاروق چوہدری کا کہنا تھا کہ ریستوران صرف ٹیک اوے کے ذریعے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے، کیونکہ ٹیک اوے زیادہ تر فاسٹ فوڈ تک محدود ہے، جب کہ پاکستانی اور روایتی کھانوں کا زیادہ تر انحصار ڈائن اِن صارفین پر ہوتا ہے۔ شدید گرمی کے باعث ریستورانوں کی اصل کاروباری سرگرمیاں رات کے اوقات میں ہوتی ہیں، مگر وقت کی پابندیوں نے کاروبار کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ممتاز احمد نے کہا کہ کاروباری اوقات محدود ہونے سے آمدن کم ہو رہی ہے، جس سے نوجوان طلبا ان کی تعلیم اور خاندانوں کی معاشی کفالت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔محمد نعیم چوہدری نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری ابھی تک کورونا وبا کے دوران ہونے والے معاشی نقصانات اور اس عرصے میں لیے گئے قرضوں کے بوجھ سے مکمل طور پر نہیں نکل سکی۔موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو مزید کاروبار بند ہونے، بے روزگاری میں اضافے، سرمایہ کاری میں کمی اور حکومتی ٹیکس وصولیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے،ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زمینی حقائق، موسمی حالات اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کو مدنظر رکھتے ہوئے ریستورانوں میں ڈائن اِن کے اوقاتِ کار فوری طور پر رات 1:00 بجے تک بحال کیے جائیں تاکہ کاروبار چل سکے، نوجوانوں کا روزگار محفوظ رہے، بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو اور قومی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، "کاروبار بچائیں، روزگار بچائیں، معیشت مضبوط بنائیں۔ کچن کھلے رہنے دیں، لوگوں کو باعزت روزگار برقرار رکھنے دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔