سینیٹ ہاؤس کمیٹی کی نئے پارلیمنٹ لاجز منصوبے میں تاخیر اور تعمیراتی معیار پر شدید تشویش

104 نئے لاجز کا صرف 20 فیصد کام مکمل، آزادانہ فارنزک آڈٹ کرانے کی سفارش، متعلقہ حکام کی عدم شرکت پر برہمی

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ و چیئرمین سینیٹ ہاؤس کمیٹی سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ ہاؤس کمیٹی کے اجلاس میں 104 نئے پارلیمنٹ لاجز منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور مرمتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ منصوبے میں تاخیر، ناقص تعمیراتی معیار اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام کی عدم شرکت پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا گیا۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جان محمد، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر نسیمہ احسان، سی ڈی اے، وزارت داخلہ، وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں اور سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام کی عدم شرکت کو پارلیمانی نگرانی کے عمل کو غیر سنجیدہ لینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں معائنہ کمیٹی نے 104 نئے پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تعمیراتی کام میں نمایاں پیش رفت کے دعوؤں کے برعکس منصوبے کا صرف تقریباً 20 فیصد حصہ ہی مکمل ہوا ہے۔ رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی جن میں منظور شدہ مرکزی ایئر کنڈیشننگ نظام کے بجائے الگ الگ ایئر کنڈیشنرز کی تنصیب، ناکافی وینٹیلیشن، چھت کے پنکھوں کی تنصیب میں ڈیزائن کی خامیاں، لاجز میں اسٹور کی غیر موزوں جگہ اور مجموعی تعمیراتی معیار پر تحفظات شامل ہیں۔

سی ڈی اے کے ممبر انجینئرنگ نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کا گریے اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے جبکہ فنشنگ کا کام جاری ہے۔ درآمد شدہ لفٹس کی تنصیب باقی ہے اور فرنیچر کی خریداری کا آرڈر دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز کی تزئین و آرائش کے لیے آرکیٹیکٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں جو جدید تقاضوں کے مطابق ماڈل لاج تیار کرے گا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد نے شکایت کی کہ گزشتہ تین برس سے ان کے الاٹ شدہ لاج کی مرمت کے لیے صرف علامتی فنڈز فراہم کیے گئے۔ اس پر سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ پہلے سہ ماہی کے فنڈز جاری ہو چکے ہیں، جلد ٹینڈرنگ مکمل کر کے ستمبر 2026 کے پہلے ہفتے میں مرمتی کام شروع کر دیا جائے گا۔

وزارت منصوبہ بندی کے چیف پلاننگ آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ 104 نئے پارلیمنٹ لاجز منصوبے کی مجموعی لاگت 7.1 ارب روپے ہے، جس میں سے اب تک 3.5 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں مالی سال میں 1.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کا بیرونی فارنزک آڈٹ شروع کر رکھا ہے اور اس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

چیئرمین کمیٹی سیدال خان ناصر نے تجویز دی کہ موجودہ اور زیر تعمیر دونوں پارلیمنٹ لاجز کا آزادانہ فارنزک آڈٹ معروف پیشہ ور کنسلٹنسی فرم سے کرایا جائے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعمیراتی کاموں میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس سفارش کی منظوری دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل، اعلیٰ تعمیراتی معیار اور قومی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔