ہری پور (بیورو رپورٹ) ہری پور سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ہری پور کے صحافی شاہد اختر اعوان کی جانب سے ضلعی پولیس ہری پور پر ہراسانی، مبینہ تشدد اور غیر قانونی کارروائیوں سے متعلق شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) ہزارہ سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔دستاویزات کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے چیئرپرسن فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر سمینہ ممتاز زہری کی ہدایت پر 10 جولائی 2026 کو مراسلہ U.O. No. F.28(1)/2024-27/C-I جاری کیا گیا، جس میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا سے معاملے کی مکمل رپورٹ طلب کی گئی۔ مراسلے کی نقول ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن اور متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔شکایت کے مطابق صحافی شاہد اختر اعوان، جو عوامی مفاد میں کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق خبریں شائع کرتے رہے ہیں، ان کے خلاف تھانہ سٹی ہری پور میں ایف آئی آر نمبر 665 درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 500، 506 اور 25-D شامل کی گئیں۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ انہیں حراست کے دوران مبینہ تشدد، ذہنی ہراسانی اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی گاڑی ضمانت کے باوجود 17 اکتوبر 2025 سے پولیس تحویل میں رکھی گئی۔
شاہد اختر اعوان کا مزید مؤقف ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمے میں بے گناہی ثابت کرنے اور شفاف تحقیقات کے لیے مختلف اوقات میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ہری پور، ایس پی انویسٹی گیشن ہری پور اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) ہزارہ کو تحریری درخواستیں جمع کرائیں، جن میں آزادانہ انکوائری، دستیاب شواہد کا جائزہ لینے اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی۔ تاہم، ان کے مطابق ان درخواستوں پر آج تک کوئی مؤثر کارروائی یا باقاعدہ انکوائری عمل میں نہیں لائی گئی، جس کے بعد انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے معاملہ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے اٹھایا۔سینیٹ سیکریٹریٹ کے مراسلے میں آئی جی خیبرپختونخوا سے ہدایت کی گئی ہے کہ مقدمے کے اندراج کا پس منظر، ایف آئی آر درج ہونے کے حالات، موصولہ شکایات پر کی گئی کارروائی، کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اس کی وجوہات، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے یا مجوزہ اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جلد از جلد کمیٹی کو ارسال کی جائے۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ موصول ہونے والی رپورٹ کا جائزہ چیئرپرسن فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کریں گی، جبکہ اس معاملے کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل کیا جائے گا۔





