اقبال چیئر کے تحت ہفتہ وار علمی لیکچرز کا آغاز، جاوید نامہ کورس بھی شروع ہوگا. ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اقبال چیئر آن مسلم اینڈ صوفی تھاٹ کے زیر اہتمام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے ڈیڑھ سو سالہ جشنِ ولادت کے سلسلے میں ایک علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ممتاز ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر قمر اقبال نے ’’حقیقت ابدی ہے مقامِ شبیری‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیا جس میں انہوں نے فلسفۂ خودی، پیغامِ حریت اور واقعۂ کربلا کے مختلف فکری و تہذیبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب کی صدارت اقبال چیئر کے منتظمِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے اعلان کیا کہ اقبال چیئر کے تحت علامہ اقبال کی فکر، شاعری اور فلسفے کے فروغ کے لیے ہفتہ وار علمی لیکچرز کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے کا پہلا لیکچر آج منعقد کیا گیا ہے جبکہ آئندہ بھی ملک کے ممتاز ماہرینِ اقبالیات، دانشوروں اور محققین کو مدعو کیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاہکار تصنیف ’’جاوید نامہ‘‘ کو عالمی ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ اقبال چیئر کے زیر اہتمام ’’جاوید نامہ‘‘ پر مشتمل تین ماہ کا خصوصی تدریسی کورس بھی جلد شروع کیا جائے گا تاکہ طلبہ، اساتذہ، محققین اور اقبالیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس عظیم فکری سرمایہ سے گہرائی کے ساتھ استفادہ کر سکیں۔
اپنے لیکچر میں ڈاکٹر قمر اقبال نے کہا کہ اقبال کے نزدیک ’’مقامِ شبیری‘‘ حق، صداقت، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی حقیقی تعمیر و ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ اسوۂ حسینیؑ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں اور حق و باطل کے معرکے میں حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ پیدا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں واقعۂ کربلا کو انسانی آزادی، خودداری اور حریتِ فکر کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ سچائی، انصاف اور حق کے راستے میں آنے والی ہر قربانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا جائے اور باطل قوتوں کے سامنے کبھی سر نہ جھکایا جائے۔