عبدالسلام کے قتل سے شروع ہونے والی داستان اسماء کے اغوا، دھمکیوں اور والد کے قتل تک جا پہنچی، خاندان کا تحفظ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
خضدار/قلات(اظہار خان نیازی) بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے انجیرا سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی کہانی صرف ایک قتل، ایک اغوا یا ایک مقدمے کی داستان نہیں، بلکہ یہ برسوں پر محیط خوف، مبینہ دھمکیوں، جدوجہد اور انصاف کے انتظار کی ایسی کہانی ہے جس نے پورے خاندان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
یہ داستان عبدالسلام سے شروع ہوتی ہے، جو محمد عمر مینگل کے صاحبزادے اور ایک ذہین و باصلاحیت نوجوان تھے۔ عبدالسلام نے انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار میں سول انجینئرنگ میں داخلہ لیا تھا۔ تعلیم اور مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے عبدالسلام کی منگنی اپنی کزن اسماء بلوچ سے ہوئی، مگر چند ہی عرصے بعد یہ خوشیاں ایک ایسے سانحے میں بدل گئیں جس کے اثرات آج بھی خاندان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
13 نومبر 2012ء کو عبدالسلام کو مبینہ طور پر بہانے سے لکوریان لے جایا گیا، جہاں خاندان کے مطابق ظہور جمالزئی نے انہیں قتل کر دیا۔ عبدالسلام کی موت کے بعد معاملہ ختم ہونے کے بجائے خاندان کے لیے مشکلات کا ایک نیا باب کھل گیا۔
خاندان کے مطابق عبدالسلام کے قتل کے بعد ظہور جمالزئی نے اسماء سے شادی کی خواہش ظاہر کی اور اس مقصد کے لیے خاندان پر دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مسلسل خوف اور دباؤ کے باعث خاندان نے اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر خضدار منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن خاندان کے مطابق وہاں بھی مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔
"گھر میں مسلح افراد کا داخلہ اور اسماء کا اغوا”
پھر 5 فروری 2025ء کی رات وہ واقعہ پیش آیا جس نے اس خاندان کی زندگی کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا۔
خاندان کے مطابق ظہور جمالزئی مسلح افراد کے ہمراہ اسماء کے گھر میں زبردستی داخل ہوا۔ اہل خانہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، باندھا گیا اور اسماء کو بغیر جوتوں اور چادر کے مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
اسماء کے اغوا کی خبر پھیلتے ہی خضدار میں احتجاج شروع ہوگیا۔ معاملہ محض ایک خاندان تک محدود نہ رہا بلکہ شہر کے مختلف طبقات اس واقعے کے خلاف آواز بن گئے۔ سڑکیں اور بازار بند رہے جبکہ قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، علما، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اسماء کی بحفاظت بازیابی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے تیسرے روز اسماء کی دو ویڈیوز منظرعام پر آئیں۔ خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ویڈیوز دباؤ اور جبر کے ماحول میں ریکارڈ کرائی گئی تھیں۔ بعد ازاں اسماء کو ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا اور وہ واپس گھر پہنچیں۔
خاندان کے مطابق اسماء اس وقت شدید ذہنی صدمے سے دوچار تھیں، تاہم انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
"بازیابی کے بعد بھی ختم نہ ہونے والا خوف”
اسماء کی بازیابی کے باوجود خاندان کے مطابق خطرات ختم نہیں ہوئے۔ شادی کے لیے مسلسل فون کالز، پیغامات اور مختلف افراد کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد تحریری درخواستوں کے ذریعے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو مسلسل صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنے تحفظ کے لیے مدد طلب کی، تاہم ان کے مطابق انہیں وہ مؤثر تحفظ نہیں مل سکا جس کی انہیں ضرورت تھی۔
یہاں سے اس داستان کا ایک اور المناک باب شروع ہوتا ہے۔
دسمبر 2025ء میں اسماء کے ماموں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ شادی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد پیش آیا۔ یوں ایک کے بعد ایک خاندان کے افراد نشانہ بنتے چلے گئے اور خوف کی فضا مزید گہری ہوتی گئی۔
"دھمکیوں کا سایہ”
خاندان کے مطابق اسماء کے والد کو بھی مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ ان کے بقول انہیں یہاں تک کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں کے کفن کا انتظام کرلیں۔
ایسے حالات میں خاندان کی جانب سے بار بار متعلقہ حکام کو تحریری درخواستیں دی گئیں۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ ان درخواستوں میں مبینہ خطرات، دھمکیوں اور خاندان کے افراد کو لاحق خدشات کی تفصیلات فراہم کی گئیں، تاہم اس کے باوجود ان کے مطابق مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی۔
خاندان نے بعض سیاسی اور بااثر شخصیات پر بھی مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور جن افراد پر یہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان کا مؤقف بھی سامنے آنا چاہیے۔
"4 اگست 2026ء؛ ایک اور جنازہ”
اور پھر 4 اگست 2026ء کو اس خاندان پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی۔
خاندان کے مطابق اسماء کے والد کو ظہور جمالزئی اور تین دیگر افراد نے اس وقت فائرنگ کرکے قتل کر دیا جب وہ نمازِ عصر کے لیے جا رہے تھے۔
ایک باپ، جو پہلے ہی اپنے بیٹے کو کھو چکا تھا، اپنی بیٹی کے اغوا اور خاندان کو لاحق مسلسل خطرات کا سامنا کر رہا تھا، خود بھی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
خاندان کے مطابق اغوا اور بعد ازاں ہونے والے قتل کے واقعات کی ایف آئی آرز درج ہوچکی ہیں، تاہم مرکزی ملزمان تاحال گرفتار نہیں کیے گئے۔
یہ سوال اب صرف اسماء کے خاندان کا نہیں بلکہ قانون کی عملداری سے متعلق بھی ہے کہ اگر ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں تو نامزد ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ کیا ایک متاثرہ خاندان کو انصاف کے حصول کے لیے اپنے پیاروں کی مزید قربانی دینا ہوگی؟
"انصاف صرف گرفتاری کا نام نہیں”
اسماء کے خاندان کی داستان کئی بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر کسی خاندان کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کی تحریری شکایات دی جائیں، اگر اغوا کا مقدمہ درج ہو، اگر قتل کے واقعات پیش آئیں اور اس کے باوجود مرکزی ملزمان قانون کی گرفت سے باہر رہیں تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم؟
خاندان کا مطالبہ ہے کہ تمام واقعات کو الگ الگ واقعات سمجھنے کے بجائے ایک مربوط سلسلے کے طور پر دیکھا جائے اور عبدالسلام کے قتل، اسماء کے اغوا، خاندان کو مبینہ دھمکیوں، اسماء کے ماموں کے قتل اور 4 اگست کو ان کے والد کے قتل سمیت تمام واقعات کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کرائی جائیں۔
خاندان کا کہنا ہے کہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کافی نہیں، بلکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
"اسماء اب بھی انصاف کی منتظر ہے”
ایک نوجوان جو سول انجینئر بننے کے خواب دیکھ رہا تھا، دنیا سے چلا گیا۔
ایک لڑکی، جس کی زندگی اپنے مستقبل اور خاندان کے خوابوں کے ساتھ آگے بڑھنی تھی، مبینہ طور پر اغوا ہوئی، واپس آئی تو شدید ذہنی صدمے کا شکار تھی۔
اس کے بعد خاندان کے ایک اور فرد کو قتل کر دیا گیا۔
اور بالآخر 4 اگست 2026ء کو اس کا والد بھی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
یہ محض ایک خاندان کی داستان نہیں، یہ اس سوال کی بازگشت ہے کہ کیا کسی شہری کو اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے بار بار فریاد کرنا پڑے گی، یا ریاست خود اس کی دہلیز تک پہنچ کر اسے تحفظ فراہم کرے گی؟
اسماء کے خاندان نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، مبینہ طور پر ملوث افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، کسی بھی بااثر شخصیت کی مداخلت ہو تو اس کی بھی تحقیقات کی جائیں اور خاندان کے باقی افراد کو فوری اور مؤثر سکیورٹی فراہم کی جائے۔
خاندان نے پاکستان کے عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان کی آواز سنیں اور اس خاندان کے لیے انصاف اور تحفظ کے مطالبے کو اجاگر کریں۔
بارہ سال پہلے ایک نوجوان کی موت سے شروع ہونے والی یہ داستان آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگلا باب انصاف لکھے گا یا ایک اور جنازہ؟





