محنت کش طبقات کو ان کے گھروں، زمینوں اور روزگار کے ذرائع سے محروم کیا جا رہا ہے، مقررین


قبضوں، جبری بے دخلیوں، معاشی استحصال اور ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، دانشوروں، وکلا اور شہری نمائندوں نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی استحصال، جبری بے دخلیوں اور شہری آزادیوں پر قدغنوں کے باعث محنت کش عوام کی اکثریت ریاست سے مسلسل بیگانہ ہوتی جا رہی ہے، ملک میں محنت کش طبقات کو ان کے گھروں، زمینوں اور روزگار کے ذرائع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مکینوں اور دیہی آبادیوں کی حالیہ بے دخلیوں سے لے کر زرعی زمینوں پر قبضوں تک، عام شہریوں کو مسلسل معاشی اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے،پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ سمیت وہ ادارے جو بنیادی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، بڑی حد تک طاقتور حلقوں اور منافع خور طبقات کے زیر اثر آ چکے ہیں،مقررین نےان خیالات کا اظہارنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں عوامی ورکر پارٹی مارکسسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی حلقوں سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد افراد نے شرکت کی، نمایاں مقررین میں عاصم سجاد اختر، فرحت اللہ بابر، اکبر زیدی، افراسیاب خٹک، عائشہ شاہد، عزت کمال پاشا، عالیہ امیر علی، طارق عثمانی، عمر گیلانی اور شکیل جلیل شامل تھے۔مقررین نے کہا کہ ملک میں محنت کش طبقات کو ان کے گھروں، زمینوں اور روزگار کے ذرائع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مکینوں اور دیہی آبادیوں کی حالیہ بے دخلیوں سے لے کر زرعی زمینوں پر قبضوں تک، عام شہریوں کو مسلسل معاشی اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے ریاست اور عوام کے درمیان پہلے سے کمزور سماجی معاہدے کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کا سیاسی و معاشی ڈھانچہ، جو نوآبادیاتی دور کی وراثت ہے، وقت کے ساتھ مزید جابرانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق معاشی استحصال کی نئی صورتوں میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا دباؤ، شہری رئیل اسٹیٹ مافیا کا اثر و رسوخ اور ریاستی اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے دولت کا ارتکاز شامل ہے، جسے ریاستی جبر کی پشت پناہی حاصل ہے،جب عام لوگ اپنی کچی آبادیوں، زرعی زمینوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں ریاستی طاقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ سمیت وہ ادارے جو بنیادی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، بڑی حد تک طاقتور حلقوں اور منافع خور طبقات کے زیر اثر آ چکے ہیں۔شرکاء نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کم آمدنی والے طبقات کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے میں مسلسل ناکامی کے باعث اسلام آباد میں کچی آبادیوں میں اضافہ ہوا، تاہم ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بڑے ہاؤسنگ منصوبوں اور زمینوں کے متنازعہ حصول کو سرکاری سرپرستی حاصل رہتی ہے۔مقررین نے کہا کہ سی ڈی اے کی پالیسیاں غریب اور کمزور طبقات کے خلاف امتیازی رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ریڑھی بانوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں، سامان کی ضبطی اور روزگار کے مواقع محدود کرنا اسی طرز عمل کا حصہ ہے۔سیمینار میں اسلام آباد کے تاریخی دیہات سیدپور، مل پور،محلہ نوری باغ نور پور شاہاں بری امام سرکاراور ڈھوک ٹاہلی کی صورتحال اور ماحولیاتی نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین کے مطابق درختوں کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے مقامی ماحولیات اور فضائی معیار کو شدید متاثر کیا ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں قبضوں، جبری بے دخلیوں، معاشی استحصال اور ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور تمام عوام دوست اور جمہوری قوتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔