
"یہ مرے حرف” شکیل خورشید کی فکری بصیرت، ادبی شعور اور زبان پر گہری دسترس کی آئینہ دار ہے۔ افتخار عارف
شکیل خورشید کی شاعری میں تاثیر اور بیان کی سچائی قابلِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر ناصر محمود
شکیل خورشید کی شاعری میں فکر، احساس اور اظہار کا خوبصورت امتزاج ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ادارۂ فروغِ قومی زبان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ہال میں باکمال شاعر جناب شکیل خورشید کی کتاب "یہ مرے حرف” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور، افتخارِ اُردو جناب افتخار عارف نے کی جب کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ، ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان اور پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، وائس چانسلر، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی مہمانانِ خصوصی تھے۔ اظہارِ خیال میں ممتاز دانشور، فکشن نگار اور نقاد جناب محمد حمید شاہد، سابق ڈین فیکلٹی ، علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر، جناب مامون طاہر رانا اورصدر شعبہ اُردو، علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور نوجوان شاعر فرزند علی ہاشمی شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مہناز انجم نے انجام دیے۔ڈاکٹر راشد حمید، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادارۂ فروغِ قومی زبان نے تقریب کے آغاز میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ شکیل خورشید کے کلام میں سادگی کے ساتھ ساتھ چاشنی بھی ہے۔ شکیل خورشید نے اپنی 26 سالہ پاک فضائیہ کی ملازمت کے دوران اس قدر خوبصورت شاعری لکھ کر ہم سب کو حیران کر دیا ہے۔صدرِ محفل جناب افتخار عارف نے کہا کہ شاعر کی پہلی کتاب پہلے عشق کی مانند ہوتی ہے اور "یہ مرے حرف” شکیل خورشید کی فکری بصیرت، ادبی شعور اور زبان پر گہری دسترس کی آئینہ دار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسی تصانیف اُردو ادب کے علمی سرمایے میں گراں قدر اضافہ کرتی ہیں اور نئی نسل کو معیاری ادب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہم منٹو اور حمید شاہد کو ایک ہی پیمانے پر نہیں ناپ سکتے اسی طرح اقبال، حافظ اور فردوسی کے پیمانے پر شکیل خورشید کا معیار بھی نہیں ناپا جاسکتا۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان نے کہا کہ شکیل خورشید کی تحریروں میں فکر، احساس اور اظہار کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ادبی ماحول میں پرورش پانے والے شخص خواہ انجیئنر ہو یا ریاضی دان اس کے دل سے الفاظ شعر بن کر ہی نکلیں گے۔شکیل نے اپنے ماضی اور حال کو بہت خوبصورتی اور سادگی سے اپنے شعروں میں بیان کیا ہے۔ ادارۂ فروغِ قومی زبان کی ادبی سرگرمیاں اُردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم خدمات انجام دے رہی ہیں اور ہم ہمہ وقت اُردو کی خدمت میں حاضر ہیں۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ناصرمحمودوائس چانسلر، علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ شکیل خورشید کو ایک شاعر کے طور پر دیکھنا ایک بالکل منفرد تجربہ ہے۔ اُن کی شاعری میں تاثیر اور بیان کی سچائی قابلِ تحسین ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ شکیل خورشید نےاپنی پہلی تخلیقی کتاب میں شاعری میں مہارت کا ثبوت دیا ہے اور اپنے احساسات کو بلا جھجھک بیان کیا ہے۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ شکیل خورشید نے اپنی شاعری میں معاشرتی احساسات اور انسانی تجربات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ شعری مجموعہ قارئین کو غور و فکر کی نئی جہتوں سے روشناس کراتا ہے۔اُنھو ں نے مزید کہا کہ کسی بھی شاعر کے مزاج کو اُس کی غزلوں کے مطلعوں سے جانچا جاسکتا ہے اور شکیل کی غزلوں میں داخلی کائنات کا ذکر، آہنگ اور روانی بڑے فطری انداز میں ہے۔شکیل نہ تو مشکل پسندی کے قائل ہیں اور نہ بالکل سادگی کے بلکہ وہ روزمرہ کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اُن کے لہجے کا دھیما پن اُن کی شاعری کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ "یہ مرے حرف” شاعر کی ادب سے گہری وابستگی اور تخلیقی ریاضت کا ثبوت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کتاب میں شکیل خورشید نے ایک ہی غزل میں حمد، نعت اور منقبت کو یکجا کر کے ایک نیا اور کامیاب تجربہ کیا ہے ایسی کتابیں اُردو ادب کی روایت کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ سلینگ فکشن میں تو استعمال ہوتا ہے مگر شکیل نے پہلی مرتبہ اسے اشعار میں بھی کامیابی اور سلیقے سے برتا ہے۔ اُن کے ہاں ایسے الفاظ بھی ملتے ہیں جو آج کی غزلوں میں ناپید ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، صدر شعبہ اُردو، علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس تخلیق میں عصری شعور اور ادبی جمالیات کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شکیل خورشید کی یہ کاوش اُردو ادب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگی۔اُنھوں نے مزید کہا کہ خورشید کے ہاں خاموشی ایک کردار کی صور ت میں سامنے آتی ہے۔ شکیل نے پہلی کتاب میں ہی اتنے کمال کے شعر کہے ہیں جو اُن کی شعر گوئی میں اعلیٰ مقام کا پتا دیتے ہیں۔ ملتان سے تشریف لانے والے شاعر و ادیب جناب مامون طاہر رانا نے کہا کہ شکیل خورشید کی شاعری میں سادگی، روانی اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ کتاب ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی کیونکہ یہ دل سے نکل کر دل تک پہنچتی ہے۔ نوجوان شاعر فرزند علی ہاشمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مرے حرف” شکیل خورشید کے حروف کی کتھا نہیں بلکہ اُن کی داخلی کیفیات کی گواہ ہے۔ وہ باہر کی دُنیا کی نسبت اپنے باطن سے زیادہ مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر شکیل خورشید نےاپنے کلام سے کچھ اشعار سنا کر سامعین سے داد وصول کی۔ اس موقع پر اہل علم و دانش کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کتاب کی رونمائی کو اُردو ادب کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔اس کامیاب تقریب پر شاعر کو مبارک باد۔آخر میں شرکائے تقریب کی چائے سے تواضع کی گئی۔





