مری، کوٹلی ستیاں، گلیات اور کہوٹہ کے جنگلات کے تحفظ کے لیے فوری فضائی فائر فائٹنگ نظام کی ضرورت اسد ستی

مری (راجہ عثمان علی)مری، کوٹلی ستیاں، گلیات اور کہوٹہ کے علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی اور سرسبز جنگلات کی وجہ سے پاکستان بھر میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ یہ جنگلات نہ صرف سیاحتی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، آکسیجن کی فراہمی اور مقامی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تاہم ہر سال ان علاقوں میں جنگلاتی آگ کے واقعات پیش آتے ہیں جن کے نتیجے میں قیمتی درخت، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ حکومت کی جانب سے آگ بجھانے کے لیے ہر سال بھاری مالی وسائل خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور رسائی کے مسائل کی وجہ سے بروقت اور مؤثر کارروائی ممکن نہیں ہو پاتی۔اس صورتحال کے پیش نظر اسد ستی، صدر پیپلز پارٹی تحصیل کوٹلی ستیاں نے ایک اہم اور عملی تجویز پیش کی ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر جنگلات کے تحفظ اور آگ بجھانے کے لیے کم از کم دو سے تین جدید فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹرز کا انتظام کرے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹرز ہنگامی صورتحال میں فوری رسائی، آگ پر بروقت قابو پانے اور بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ میں انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف قیمتی جنگلات کو تحفظ ملے گا بلکہ ہر سال ہونے والے کروڑوں روپے کے مالی نقصان میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تجویز ایک وقتی خرچ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کے تحفظ کی ضمانت بن سکتی ہے۔اسد ستی نے حکومت پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم تجویز پر فوری غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ان خوبصورت پہاڑی علاقوں کے جنگلات کو محفوظ بنایا جا سکے۔