وفاقی پولیس کا 11محرم الحرام کو بری امام اور شاہ اللہ دتہ میں منعقدہ جلوسوں پر سکیورٹی انتظامات

اسلام آباد(کرائم رپورٹر)وفاقی پولیس کا 11محرم الحرام کو بری امام اور شاہ اللہ دتہ میں منعقدہ جلوسوں پر سکیورٹی انتظامات۔2500سے زائد افسران و جوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دئیے،جلوسوں کے روٹس کوسیف سٹی اور موبائل کنٹرول روم سے مانیٹر کیا گیاجبکہ شہریوں کی آمدو رفت کیلئے متبادل راستے مہیا کئے گئے۔تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد، سید علی ناصر رضوی کے خصوصی احکامات کی روشنی میں اسلام آباد پولیس نے 11 محرم الحرام کو بری امام اور شاہ اللہ دتہ میں منعقد ہونے والے جلوسوں کے لیے بہترین سکیورٹی انتظامات کیے اور ٹریفک کے مربوط نظام کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 2500 سے زائد افسران وجوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے، جبکہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران نے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد محمد جواد طارق نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا، ایس ایس پی سکیورٹی آپریشنز سلمان ظفر، زونل ایس پیز اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ تمام سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے ویژن کے مطابق محرم الحرام کے دوران پرامن ماحول اور فول پروف سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کے دوران الرٹ رہتے ہوئے تمام سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔وفاقی دارالحکومت میں 11 محرم الحرام کو منعقد ہونے والے جلوسوں کو کثیر سطحی سکیورٹی فراہم کی گئی۔ جلوس کے روٹس پر عمارتوں کی چھتوں پر سنائپر کمانڈوز تعینات کیے گئے، جبکہ جلوس کے علاقوں میں نجی ڈرونز اڑانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ مزید برآں، جلوس کے آگے اور پیچھے اسلام آباد پولیس کے اسپیشلائزڈ یونٹس، بشمول SWAT کمانڈوز، ڈیلٹا فورس، ریڈ زون کمانڈوز، اے پی سی یونٹس، سی ٹی ڈی، ضلعی پولیس اور رینجرز کے خصوصی دستے تعینات تھے۔خواتین کی چیکنگ کے لیے لیڈیز پولیس اہلکاروں اور خواتین رضاکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اسی طرح جلوس میں پیدل داخلے کے لیے خصوصی راستے مختص کیے گئے تھے، جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ مؤثر چیکنگ کے لیے جلوس کے داخلی راستوں پر خصوصی اسکینرز نصب کیے گئے تھے، جبکہ مقررہ راستوں اور مکمل چیکنگ کے بغیر کسی بھی شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔جلوسوں کے دوران ٹریفک کی روانی کو بھی مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا تاکہ شہریوں کو دورانِ سفر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں ٹریفک پولیس کے مؤثر انتظامات کے باعث وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کا نظام بحال اور رواں رہا۔ مزید برآں، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کیا گیا تھا، جبکہ جلوس کے روٹس کے اطراف گاڑیوں کی پارکنگ کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔ڈی آئی جی اسلام آباد نے اسلام آباد پولیس، رینجرز، ضلعی انتظامیہ، امن کمیٹیوں، منتظمینِ مجالس و جلوس اور شہریوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں مثالی امن و امان برقرار رکھا گیا۔

اسلام آباد()
نویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس۔سیکٹر جی سکس ٹو مرکزی امام بارگاہ سے برآمد ہوا۔جو اپنےروایتی راستوں سے گزرتے ہوئے لال کوارٹر، جی-6/2 چوک، جی سکس ون تھری سے میلوڈی مارکیٹ اور دیگر مقررہ راستوں سے گذرتا ہوا ہوا واپس مرکزی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

عزاداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر سبیل کا انتظام کیا گیا جبکہ طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈاکٹرز اور ریسکیو عملہ بھی تعینات رہا۔
مزید
جلوس کے چاروں اطراف سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا۔جلوس کی سکیورٹی پر ضلعی پولیس، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس کے 3000 سے زائد افسران و جوان تعینات کیے گئے۔

جلوس کی سکیورٹی سیف سٹی مرکزی کنٹرول اور موبائل کنٹرول سے مانیٹر کی گئی۔ترجمان پولیس کے مطابق جلوس کے روٹ کو خاردار تاروں، قنات سے کارڈن کیاگیا

۔جلوس کے روٹ میں چھتوں پر سنائپر کمانڈوز تعینات کیے گے۔ جلوس کے داخلے راستوں پر سکینرز لگائے گے۔جلوس کے روٹ کو جدید بم ڈسپوزل سکواڈ کے ذریعے کلئیر کیاگیا

اورجلوس کے علاقوں میں پرائیویٹ ڈرون اڑانے پر پابندی لگائی گئی۔ جلوس کے فرنٹ اور بیک پر سی ٹی ڈی، ضلعی پولیس، رینجرز کے خصوصی دستے تعینات کیے گئے۔

خواتین کی چیکنگ کے لئے لیڈیز پولیس، خواتین رضاکار تعینات رہیں۔جلوس میں داخلے کے مختص رستوں کے علاوہ کہیں سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

۔ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے متبادل ٹریفک پلان تشکیل دے دیا گیا۔

چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان نے جی سکس جلوس کے روٹ کا دورہ۔ ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا اور ڈیوٹی پر تعینات افسران کو ہدایات جاری کیں۔محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں ٹریفک انتظامات کے لئے 350 سے زائد افسران تعینات کئے گئے تھے۔دوران جلوس آئی جی اسلام آباد ۔ے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ

اسلام آباد جی سکس محرم الحرام کا مرکزی جلوس اختتام پذیر ہونے۔کے بعد

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران و جوانوں کو شاباش دی،اور انتظامیہ، پاک فوج، پاک رینجرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سکیورٹی پر موجود تمام اداروں کے درمیان بھرپور ہم آہنگی رہی۔ شدید گرمی میں فورس نے جس ہمت و حوصلے سے ڈیوٹی سرانجام دی قابل تحسین ہے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ مرکزی جلوس کے لیے 6500 سے زائد اہلکار تعینات رہے جن میں مرد و خواتین افسران شامل تھے۔ ضلعی پولیس، انویسٹیگیشن، سی آئی اے، سی ٹی ڈی اور پانچوں ڈویژنز متحرک رہے۔
جلوس کو 7 لیئرز سکیورٹی فراہم کی گئی تھی

مزید
ڈی جی سیف سٹی/ڈی آئی جی ٹریفک محمد ہارون جوئیہ اور چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان
مرکزی جلوس کے سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کی خود نگرانی کی۔