تربیلا غازی (نامہ نگار)
یومِ عاشورہ کی مناسبت سے جماعتِ اسلامی تحصیل غازی کے زیرِ اہتمام شہادتِ امام حسینؓ کانفرنس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مرکزِ اسلامی کے قیام کے لیے وقف کی گئی زمین پر سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا۔ جماعتِ اسلامی کے رکن غلام مصطفیٰ نے مرکزِ اسلامی کے لیے زمین وقف کی جبکہ جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمٰن نے اپنے دستِ مبارک سے سنگِ بنیاد کی رسم ادا کی،کانفرنس میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمٰن مہمانِ خصوصی تھے جبکہ امیر جماعتِ اسلامی ضلع ہری پور طاہر عتیق صدیقی نے صدارت کی۔ امیر جماعتِ اسلامی تحصیل غازی پرویز احمد تقریب کے میزبان تھے جبکہ نائب امیر جماعتِ اسلامی تحصیل غازی حفیظ الرحمٰن نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے،مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و صداقت کا مینارِ نور بنی رہے گی،انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا امتِ مسلمہ کو یہ درس دیتا ہے کہ دینِ اسلام کی سربلندی، عدل و انصاف کے قیام اور باطل قوتوں کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور رفقاء سمیت جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان حق کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا،صدرِ اجلاس طاہر عتیق صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہادتِ امام حسینؓ اسلام کی حقیقی روح، حریتِ فکر اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی روشن مثال ہے،انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو کربلا کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں عدل، دیانت اور اسلامی اقدار کو فروغ دیا جا سکے،تقریب کے میزبان امیر جماعتِ اسلامی تحصیل غازی پرویز احمد نے مہمانِ خصوصی، ضلعی قیادت، کارکنان اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزِ اسلامی کا قیام علاقے میں دینی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا،انہوں نے زمین وقف کرنے پر غلام مصطفیٰ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم خدمت صدقۂ جاریہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی،کانفرنس میں سابق امیر جماعتِ اسلامی تحصیل غازی عقیل الرحمٰن، تحصیل غازی جماعتِ اسلامی کے دیگر عہدیداران،کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی،مقررین نے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کربلا کے پیغامِ حق، صبر، استقامت اور قربانی کو عام کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کی جائیں گی۔





