علامہ محمد اقبال کا پیغام آج بھی نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا روشن مینار ہے: پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود

علامہ محمد اقبال کا پیغام آج بھی نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا روشن مینار ہے: پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود
اہلِ بیتؑ اور واقعہ کربلا پر علامہ اقبال کی فکری وسعت، شعری گہرائی اور بصیرت اپنی مثال آپ ہے: افتخار عارف

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے ڈیڑھ سو سالہ جشنِ ولادت کی تقریبات کے سلسلے میں ایک پروقار علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور افتخار عارف نے کلیدی خطاب کیا۔ تقریب کی صدارت وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کی جبکہ "اقبال چیئر اینڈ صوفی تھاٹ "کے منتظمِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحرتقریب کے میزبان تھے۔اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کا پیغام آج بھی نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا روشن مینار ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اپنے نام کی نسبت سے، فکرِ اقبال کے فروغ کو اپنی علمی، قومی اور تہذیبی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا تسلسل سے انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ آئندہ بھی فکرِ اقبال کے فروغ، علمی مکالمے اور تحقیقی سرگرمیوں کے انعقاد کے ذریعے قومی فکری روایت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ "حقیقت ابدی ہے مقام شبیری ” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا کہ علامہ اقبال نے واقعہ کربلا کو حق، عدل، آزادی، حریت اور ظلم کے خلاف دائمی مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؓ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانیاں اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ حق کی سربلندی کے لیے جان، مال، اہل و عیال اور ہر عزیز شے قربان کی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم اور جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ افتخار عارف نے کہا کہ اردو اور فارسی شاعری کی پوری روایت میں اہلِ بیتؑ اور واقعہ کربلا پر جس وسعتِ نظر، فکری گہرائی اور شعری عظمت کے ساتھ علامہ اقبال نے اظہارِ خیال کیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ فکرِ اقبال کو محض مطالعے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی، کردار، تعلیم اور قومی ذمہ داریوں کا حصہ بنائیں تاکہ ایک باکردار، باشعور، خوددار اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔اس موقع پر اقبال چیئر اینڈ صوفی تھاٹ کے منتظمِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے اعلان کیا کہ ” افتخار عارف کی آواز میں ”کلیاتِ اقبال” کی آڈیو ریکارڈنگ” کا ایک منفرد منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف اقبال کے کلام کو محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ تحقیق، تدریس اور فکری مکالمے کے فروغ میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔