علامہ سید حسین الدین شاہ صاحب اسلاف کی آخری نشانی تھے: علامہ سید ریاض حسین شاہ

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)

علامہ سید حسین الدین شاہ صاحب اسلاف کی آخری نشانی تھے: علامہ سید ریاض حسین شاہ

شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہؒ کی رحلت ایک عظیم علمی اور روحانی عہد کا خاتمہ ہے: پروفیسر حمزہ مصطفائی

استاذ الاساتذہ کی رحلت سے راولپنڈی کے عاشقان رسول یتیم ہو گئے: پروفیسر ابرار احمد خان

عالمی شہرت یافتہ معروف مذہبی و علمی شخصیت، بانی و مہتمم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی اور سرپرستِ اعلیٰ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب قدس سرہٗ العزیز کی رحلت پر مذہبی، تعلیمی اور سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
سرپرستِ اعلیٰ ادارہ تعلیماتِ اسلامیہ پاکستان علامہ سید ریاض حسین شاہ، مرکزی نائب ناظمِ اعلیٰ اوّل جماعتِ اہل سنت پاکستان پروفیسر حمزہ مصطفائی اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر پروفیسر ابرار احمد خان نے اپنے ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں حضرت شاہ صاحبؒ کی رحلت کو ملکی و عالمی سطح پر ایک ناقابلِ تلافی علمی، روحانی اور دینی نقصان قرار دیا ہے۔ علامہ سید ریاض حسین شاہ نے کہا کہ حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہؒ اسلاف کی آخری نشانیوں میں سے تھے۔ آپؒ نے علم و عمل، تقویٰ، اخلاص، محبتِ رسول ﷺ اور فکرِ اہل سنت کی جو شمع روشن رکھی، اس سے ہزاروں علماء و مشائخ اور لاکھوں عوام نے فیض حاصل کیا۔ آپؒ کی ذات اتحادِ اہل سنت، باہمی اخوت اور دینی و ملی یکجہتی کی ایک مضبوط علامت تھی۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی رحلت سے اہل سنت ایک عظیم علمی و روحانی سرپرست سے محروم ہوگئے ہیں۔
پروفیسر حمزہ مصطفائی نے کہا کہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہؒ کی رحلت ایک عظیم علمی اور روحانی عہد کا خاتمہ ہے۔ آپؒ نے پون صدی سے زائد عرصہ قال اللہ و قال الرسول ﷺ کا درس دیتے ہوئے علم و حکمت کے ہزاروں چراغ روشن کیے۔ آپؒ کی علمی، دینی، اصلاحی اور روحانی خدمات کا دائرہ صرف ایک ادارے یا شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک اور عالم اسلام تک پھیلا ہوا تھا۔ آپؒ طویل عرصہ جماعت اہلسنت پاکستان کی سنی سپریم کونسل کے چیئرمین بھی رہے اور اتحادِ اہل سنت کے فروغ کے لیے آپؒ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پروفیسر ابرار احمد خان نے کہا کہ استاذ الاساتذہ حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہؒ کی رحلت سے راولپنڈی کے عاشقانِ رسول ﷺ یتیم ہوگئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنی زندگی دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، نسلِ نو کی اخلاقی تربیت اور محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپؒ کی شفقت، علمی رہنمائی اور روحانی سرپرستی سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے۔ آپؒ کی وفات ایک ایسا خلا پیدا کر گئی ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں۔ رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحبؒ کی پون صدی پر محیط دینی، علمی اور اصلاحی خدمات امتِ مسلمہ کا عظیم اثاثہ ہیں۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی ترویج، اشاعتِ علومِ دینیہ، نظام مصطفٰے کے نفاذ اور مقام مصطفٰے کے تحفظ نیز عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپؒ کی قیادت اور سرپرستی میں ہزاروں علماء و مشائخ نے تربیت حاصل کی اور آپؒ کا وجودِ مسعود ملک میں اتحادِ اہل سنت اور باہمی اخوت کا روشن مرکز تھا۔ تعزیتی بیان میں مزید کہا گیا کہ حضرت شاہ صاحبؒ نے جہاں جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور تنظیم المدارس کے ذریعے دینی علوم کی آبیاری کی، وہاں ملکی سطح پر دینی و عصری تعلیم کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ اور نسلِ نو کی اخلاقی تربیت میں بھی تاریخی کردار ادا کیا۔ آپؒ کا وصال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک پورے علمی و فکری عہد کی فرقت ہے، جس سے پیدا ہونے والا خلا تادیر پُر نہیں ہو سکے گا۔
علامہ سید ریاض حسین شاہ، پروفیسر حمزہ مصطفائی اور پروفیسر ابرار احمد خان نے حضرت کے صاحبزادگان، اہلِ خانہ، تلامذہ، مریدین اور تمام سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ "اللہ رب العزت حضرت شیخ الحدیث علامہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحبؒ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام و درجات عطا فرمائے، ان کی جملہ دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے فیضان کو تا ابد جاری و ساری رکھے اور تمام متعلقین و سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔