ملتان (بیورو رپورٹ) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا ہے کہ تاجروں کو ریلیف دیے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں کیونکہ حالیہ بجٹ میں ٹیکس در ٹیکس پالیسی نے بالخصوص مڈل کلاس طبقے کو شدید پریشانی سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان تاجر برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی تنظیم تاجران کے ساتھ الحاق کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں ان کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے انجمن تاجران بہاولپور روڈ شاہین گروپ کہ نو منتخب صدر چوہدری آفتاب جٹ،جنرل سیکریٹری شیخ سہیل نے کہا کہ قائد خواجہ سلیمان صدیقی ہی ملک کے 80 فیصد سے زائد تاجر برادری کے حقیقی نمائندہ ہیں مرکزی تنظیم تاجران کی قیادت پر مکمل طور پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن تاجران بہاولپور روڈ ملتان (لنک بی سی کی چوک تا کامرس کالج) شاہین گروپ کے بلا مقابلہ نو منتخب عہدے داران کی حلف برداری تقریب سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر صدر جنوبی پنجاب شیخ جاوید اختر،سرپرست اعلی چوہدری بنیامین ساجد،ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ،سٹی صدر خالد محمود قریشی کے علاوہ شاہین گروپ کے سرپرست اعلی سجاد ڈوگر،رانا محمد احتشام الحق (راناشامی) سینئر نائب صدر، عرفان ڈوگر نائب صدر اوّل، ارشاد انصاری نائب صدر دوئم، رضوان ڈوگر چیئرمین، راؤ محمد حسین وائس چیئرمین،، شیخ سہیل جنرل سیکریٹری، حمزہ جٹ جوائنٹ سیکریٹری، رانا عزیزالرحمان سیکریٹری نشر و اشاعت، محمد صفدر خان فنانس سیکریٹری، چودھری عرفان ڈپٹی فنانس سیکریٹری، سید اسلم شاہ چیئرمین مجلسِ عاملہ، مرزا شہزاد ممبر مجلسِ عاملہ اوّل، محمد بلال ممبر مجلسِ عاملہ دوئم، وسیم شاہ ممبر مجلسِ عاملہ سوئم جبکہ جعفر حسین چیئرمین میڈیا کوآرڈینیٹر سمیتچوہدری محمد شہباز اختر، شیخ زاہد جمال، عمار منظور انصاری، حبیب الرحمن سنگھیرا، عمران انصاری، اختر عالم قریشی، مدنی خلیل مظہر جونجوا،آصف انصاری،عبدالرحمن فری، پہلوان ودیگر نے شرکت کی اس موقع پر نو منتخب عہدے داران کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور مٹھائی بھی تقسیم کی گئی خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ حکومت تاجر تنظیموں کے نمائندگان کی مشاورت سے مسائل کے حل کو یقینی بنائے تو ملکی معیشت بھرپور انداز میں مستحکم ہو سکتی ہے اور ہم ترقی اور خوشحالی کی راہ پر حقیقی معنوں میں گامزن ہو سکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت خوشامدی ٹولے کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ ائے ورنہ ملکی معیشت مستحکم ہونے کی بجائے کمزور تر کمزور ہوتی چلی جائے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭۷۷





