ورک پرمٹ کے نام پر شہریوں سے بھاری رقوم بٹورنے کا انکشاف، 2 سرکاری اہلکار اور 3 ایجنٹس گرفتار
اسلام آباد (رپورٹ:اظہار خان نیازی) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس آفس رحمان آباد راولپنڈی میں بدعنوانی اور فراڈ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے تین نجی ایجنٹس کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، بعدازاں گرفتار ایجنٹس کی نشاندہی پر پروٹیکٹوریٹ آفس کے دو سرکاری اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق نجی ایجنٹس پروٹیکٹوریٹ آفس کے سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے شہریوں کو بیرون ملک روزگار کے لیے ورک پرمٹ دلوانے کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے تھے جبکہ سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کر شہریوں کے کام ترجیحی بنیادوں پر کروائے جاتے تھے۔ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کے دوران یورپ، خلیجی ممالک، برطانیہ اور افریقی ممالک کے مختلف ویزوں کی تصاویر جبکہ پروٹیکٹوریٹ آفس کے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے وائس نوٹس بھی برآمد ہوئے، جنہیں تفتیش میں اہم شواہد قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹس کی نشاندہی پر پروٹیکٹوریٹ آفس راولپنڈی کے دو سرکاری اہلکاروں مرتضیٰ علی، ڈیٹا انٹری آپریٹر، بی ایس 15، اور وقاص، اپر ڈویژن کلرک، بی ایس 11، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 40/2026 درج کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 468 اور 109 جبکہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔





