ترکی سے ڈیپورٹ ہونے والے 10 پاکستانی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج، ایف آئی اے کی کارروائی

غیر قانونی راستوں سے ترکی جانے کی کوشش، 2 لاکھ سے 12 لاکھ روپے ایجنٹس کو ادا کرنے کا انکشاف، ملزمان اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے

اسلام آباد (رپورٹ:اظہار خان نیازی) فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کے اسلام آباد زون کی امیگریشن ٹیم نے فلائٹ نمبر 9P747 کے ذریعے ترکی سے ڈیپورٹ ہو کر آنے والے 10 پاکستانی شہریوں کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ تمام ڈیپورٹیز نے مختلف ایجنٹس کو 2 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک ادا کرکے غیر قانونی راستوں سے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، تاہم ترک حکام نے انہیں مختلف اوقات میں گرفتار کر کے پاکستان واپس ڈیپورٹ کر دیا۔

ڈیپورٹ ہونے والوں میں محمد نعیم (راولپنڈی)، تسوار حسین (لیہ)، صفدر آزاد (سیالکوٹ)، محمد صدائس (لاہور)، محمد خالد (پشاور)، قاضی ضیاء الرحمان (پشاور)، حسن علی (صوابی)، سہیل خان (ڈیرہ اسماعیل خان)، اسد علی (سرگودھا) اور عثمان نواز (مانسہرہ) شامل ہیں۔

تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ محمد نعیم کے علاوہ دیگر تمام ڈیپورٹیز کی پاکستان سے روانگی کا کوئی ریکارڈ امیگریشن اینڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) میں موجود نہیں تھا، جبکہ محمد نعیم 19 نومبر 2025 کو تفتان کے راستے پاکستان سے روانہ ہوا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق تمام افراد کے ویزوں کا انتظام ارسلان ولد احسان، حاجی قاری، عرفان، عثمان اور دیگر ایجنٹس نے کیا تھا۔ ملزمان کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ نمبر AHTC-ICT-549/26 درج کر لیا گیا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔