اسلام آباد(سٹی رپورٹر)“ امن، رواداری اور روشن خیالی کا راستہ” ( The path of peace, Tolerance and Enlightenment ) کے موضوع پر 7-11 جولائی 2026ء کو ازبکستان کے دارلحکومت تاشقند میں اسلامی تہذیب پر پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ۔ یہ انٹر نیشنل کانفرنس عالمی مرکز برائے اسلامی تہذیب کی میزبانی میں جاری ہے ۔ آج افتتاحی اجلاس تھا جس میں پاکستان سے جناب اورنگ زیب خان کھچی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ، حکومتِ پاکستان اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ، ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان ، اسلام آباد شرکت کر رہے ہیں اُ اورنگ زیب خان کھچی نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنس کا انتظام کرنے والوں کے اس اقدام کو سراہا اور اُنھیں مبارک باد دی۔ اُنھوں اسلامی تہذیب کے احیا اور ترقی کے لئے اُمت ِ مسلمہ کے اتحاد کو لازمی اہم قرار دیا۔ جناب کھچی صاحب اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ شاعرِ مشرق اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے بھی مسلمانوں کومتحد ہونے اور باہمی اختلافات سے اجتناب کا درس دیا۔ اُن کے نزدیک علامہ کے فکری سرچشموں میں وسطی ایشیا کے عظیم صوفیا کا اہم مقام ہے ۔ خواجہ مُعین الدین چشتی، اجمیری، سید علی ہمدانی، ضیاء نخشبی، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی مساعی جمیلہ سے جنوبی ایشیا میں اسلام کی شمع روشن ہوئی اور یہ خطہ تاریکیوں سے باہر نکلا۔یہ صوفیا وسطی ایشیا سے برصغیر آئے تھے۔اس لئے اورنگ زیب خان کھچی نے اُنھیں پاکستان کے بانیوں میں شمار کیا۔
اورنگ زیب خان کھچی نے فاپنے خطاب میں مزید فرمایا کہ مسلام اپنے شاندار ماضی پر بجا فخر کرتے ہیں ، آج اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کو قابلِ فخر بنانے کے لئے متحد ہو کر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کام کریں۔ اُنھوں پاکستان اور ازبکستان کو اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں مل کر کام کرنے کے لئے پاکستان کی بھرپور آمادگی کا اعادہ کیا۔





