ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور تین بچوں کی اموات، پولیس نے فرانزک، ٹاکسیکالوجی اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار شروع کر دیا، حتمی رائے قبل از وقت نہیں دی جا سکتی
لاہور (بیورو رپورٹ) لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں امریکہ سے حال ہی میں پاکستان منتقل ہونے والے ایک خاندان کے چار افراد پراسرار حالات میں جاں بحق ہو گئے، جبکہ خاندان کے سربراہ ناصر ڈوگر محفوظ رہے۔ پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ اموات کی اصل وجہ کا تعین فرانزک، ٹاکسیکالوجی اور پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان تقریباً پندرہ روز قبل امریکہ سے پاکستان آیا تھا اور ویلنشیا ٹاؤن میں رہائش اختیار کی تھی۔ واقعے کے وقت ناصر ڈوگر گروسری لینے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، جبکہ ان کی اہلیہ اور تین بچے گھر میں موجود تھے۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو گھر کے پچھلے صحن سے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ ان کی والدہ شدید تشویشناک حالت میں تھیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کسی زہریلی چیز کے استعمال کا امکان زیرِ غور ہے، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ حکام کے مطابق اموات کی اصل وجہ کا تعین فرانزک اور ٹاکسیکالوجی رپورٹس کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
تفتیش کے دوران پولیس نے خاندان کے سربراہ ناصر ڈوگر کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ گزشتہ تین برس سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں اور تقریباً چھ ماہ قبل انہوں نے اپنی ادویات کا استعمال ترک کر دیا تھا۔
ناصر ڈوگر نے بیان دیا کہ جب وہ گروسری لے کر واپس آئے تو اہلیہ نے بتایا کہ بچے فلم دیکھنے گئے ہیں اور انہیں آئس کریم کھانے کی پیشکش بھی کی۔ کچھ دیر بعد محلے داروں نے اطلاع دی کہ گھر کے پچھلے صحن میں بچے پڑے ہیں۔ وہاں پہنچنے پر انہوں نے تینوں بچوں کو مردہ پایا، جبکہ اسی دوران ان کی اہلیہ کی طبیعت بھی بگڑ گئی اور وہ بعد ازاں انتقال کر گئیں۔
پولیس نے واضح کیا کہ والد کی جانب سے ظاہر کیا گیا خدشہ محض ایک بیان ہے، جس کی آزادانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس کی تصدیق یا تردید شواہد اور سائنسی رپورٹس کی بنیاد پر ہی کی جائے گی۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق واقعہ انتہائی حساس اور پیچیدہ نوعیت کا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے خاندان کے قریبی عزیزوں اور امریکہ و کینیڈا میں مقیم رشتہ داروں سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس کے مطابق گھر میں کام کرنے والی ایک ملازمہ نے سب سے پہلے پچھلے صحن میں بچوں کی لاشیں دیکھ کر اہلِ محلہ کو اطلاع دی۔ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ لاشوں کا تفصیلی معائنہ بھی جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام فرانزک، ٹاکسیکالوجی اور پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے، اس لیے اس مرحلے پر کسی بھی وجہ یا ذمہ داری کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔





