مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی بھارتی سازش بے نقاب،عالمی برادری خاموشی توڑے۔ شمیم شال
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) 5 اگست کو انسانی حقوق کونسل آف پاکستان اور ادارۂ فروغِ قومی زبان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسلام آباد کے اشتراک سے ایک پُروقار کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، سماجی کارکنان،ماہرینِ تعلیم، ادیبوں، دانشوروں اور وکلا نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ صدر انسانی حقوق کونسل آف پاکستان، اسلام آباد جناب مراد علی نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا خیر مقدم کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ کونسل کا مقصد معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا اور انسانی حقوق کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد کشمیریوں کی آواز کو ہر سطح پر مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔ کشمیری صدرِ کانفرنس محترمہ مشعال یاسین ملک نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ ہر مہذب معاشرے کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین، بچوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کو مل کر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کشمیریوں اور دنیا کے امن پسند شہریوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب بھارت نے بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا۔ کوئی بھی غاصبانہ قوت اور فوجی محاصرہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی اور ان کی مسلمہ شناخت کو ختم نہیں کر سکتا۔محترمہ مشعال یاسین ملک نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی دلیرانہ قیادت میں "معرکۂ حق” اور آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کے دفاعی غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی اس عظیم فتح نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج غیرت مند، طاقتور اور دشمن کو دندان شکن جواب دینے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتی ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اپنی عظیم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، لہٰذا دنیا کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان ایک باوقار، خوددار اور نڈر ملک ہے، جو اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔
مہمانِ خصوصی محترمہ شمیم شال نے کہا کہ معاشرے میں امن، برداشت اور احترامِ انسانیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق آگاہی اور سماجی ذمہ داری کا شعور ہی ایک بہتر اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی آبادیاتی تبدیلیاں اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مودی سرکار کی گھناؤنی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں۔ عالمی برادری کو انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموشی توڑ کر اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔مہمانِ خصوصی جناب بشیر خان نے کہا کہ نوجوان نسل میں خدمتِ خلق اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسیں حق کی آواز بلند کر کے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔ مظلوم مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ وادی میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔ پاکستان کا ہر باشعور شہری اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ عبدالمعیز نے کہا کہ نوجوانوں کو معاشرتی بہتری کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق اور بھارتی پروپیگنڈے سے باخبر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اُنھوں نے سوشل میڈیا اور جدید ذرائع کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔
روحان نے کہا کہ کشمیر میں نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عالمی ضمیر کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اقوام متحدہ کو اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔
سہیل عباسی نے مسئلۂ کشمیر کے قانونی اور سفارتی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تعلیم اور عوامی آگاہی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلۂ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
تاج سید نے کہا کہ کشمیر کی ثقافت اور زبان کو مٹانے کی بھارتی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام نے ہر محاذ پر بھارتی ہٹ دھرمی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اپنی شناخت کو برقرار رکھا ہے۔
یڈووکیٹ حماد عباسی نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھارتی جرائم پر مودی حکومت کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈاریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان، اور بشیر خان نے محترمہ مشعال یاسین ملک کو ادارۂ فروغِ قومی زبان کی طرف سے شائع کردہ کتاب "مختصر تاریخ زبان و ادب کشمیری” از ڈاکٹر محمد یوسف بخاری پیش کی۔





