شفافیت یقینی بنانے کے لیے نیوٹیک سے رپورٹ طلب، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر پر برہمی، کیمبرج مساواتی نظام پر بھی بریفنگ
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں این سی ایل ای ایکس نرسنگ ٹریننگ پروگرام کے لیے 500 امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
کمیٹی نے کہا کہ ہر امیدوار پر قومی خزانے سے تقریباً تین لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، اس لیے انتخاب کا عمل مکمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔ کمیٹی نے نیوٹیک (NAVTTC) سے عملدرآمدی ادارے کے انتخاب، امیدواروں کی نامزدگی اور پروگرام کی تفصیلات طلب کر لیں۔
اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے مالی و انتظامی بحران، اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ وفاقی تعلیم سے جامع رپورٹ طلب کی گئی۔
کمیٹی کو آئی بی سی سی کی جانب سے کیمبرج اسناد کے مساواتی نظام اور غیر ملکی امتحانی اداروں کے ریگولیٹری فریم ورک پر بھی بریفنگ دی گئی، جبکہ کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کی رجسٹریشن سے متعلق سفارشات سے بھی آگاہ کیا گیا۔





