آبادی، تحقیق اور پالیسی سازی میں تعاون پر اتفاق،دونوں ادارے شواہد پر مبنی تحقیق اور تربیت میں مل کر کام کریں گے
ڈاکٹر عابد سلہری کا ایم او یوز پر مو ¿ثر عملدرآمد پر زور،اسلم غوری نے اشتراک کو قومی منصوبہ بندی کےلئے اہم قرار دیا
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) محض رسمی دستاویزات نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں عملی تعاون، مشترکہ تحقیق اور مو ¿ثر پالیسی اقدامات کی صورت میں ڈھلنا چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ اداروں کے درمیان حقیقی شراکت داری ہی ملک کو آبادی، ترقی اور پالیسی سازی کے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔یہ بات انہوں نے یہاں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ اورپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(SDPI) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے وفاقی سیکریٹری اسلم غوری مہمانِ خصوصی تھے۔مفاہمتی یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسز ثمینہ اے حسن نے دستخط کئے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے آبادی سے متعلق منصوبہ بندی، آبادیاتی تحقیق، پالیسی تجزیے، تربیت، شواہد پر مبنی تحقیق اور پائیدار ترقی سے متعلق امور میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی مفاہمتی یادداشت کی اصل کامیابی اس پر دستخط کرنے میں نہیں بلکہ اس پر موثر انداز میں عمل درآمد کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اداروں کی ٹیمیں اسے اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھ کر خلوص اور پیشہ ورانہ انداز میں آگے نہیں بڑھائیں گی اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ اب دونوں اداروں کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ نئے جذبے اور واضح حکمت عملی کے ساتھ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کریں اور ایسی تحقیق کو فروغ دیں جو قومی پالیسی سازی میں موثر کردار ادا کر سکے۔انہوں نے کہا کہ معیشت، ترقی، توانائی، رہائش اور سماجی بہبود جیسے تمام شعبوں کی منصوبہ بندی کا بنیادی انحصار فی کس ضروریات کے درست تعین پر ہے اور یہی وہ میدان ہے جہاں NIPST&R کی ذمہ داری انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ آبادی سے متعلق مستند اعدادوشمار اور تحقیقی شواہد کی بنیاد پر مختلف سرکاری اداروں کی رہنمائی کر سکتا ہے تاکہ قومی منصوبہ بندی زیادہ حقیقت پسندانہ اور موثر بن سکے۔انہوں نے وزارتِ قومی صحت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی کے خلاف SDPI کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ کامیابیوں میں وزارت کا تعاون نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ادارے کی خدمات کا اعتراف اسی مضبوط شراکت داری کا مظہر ہے۔وفاقی سیکریٹری وزارتِ قومی صحت اسلم غوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں اداروںکے درمیان قائم ہونے والا یہ اشتراک نہایت بروقت اور خوش آئند ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت آبادی میں تیز رفتار اضافے، تولیدی صحت اور آبادیاتی تبدیلیوں جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ NIPST&R کو قومی سطح پر آبادیاتی سرویز اور تحقیقی مطالعات کا وسیع تجربہ حاصل ہے جبکہ SDPI پالیسی تحقیق، تجزیے، پروگرام سازی اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں ایک معتبر ادارہ ہے۔ ان دونوں اداروں کی مشترکہ کاوشیں نہ صرف معیاری تحقیق کو فروغ دیں گی بلکہ قومی پالیسی سازی کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کریں گی۔انہوں نے زور دیا کہ اس تعاون میں خصوصی توجہ ان طبقات پر مرکوز ہونی چاہئے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسلم غوری نے واضح کیا کہ دونوں اداروں کی پیشگی رضامندی کے بغیر کسی بھی فریق کے ساتھ تحقیقی ڈیٹا شیئر نہیں کیا جائے گا۔اس سے قبل NIPST&R کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسز ثمینہ اے حسن نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سیکریٹری کی سرپرستی میں اداروں کے درمیان موثر تعاون کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کاادارہ اس وقت قومی آبادیاتی سرویز، پنجاب میں پرفارمنس مانیٹرنگ سرویز کے پانچ مراحل، ضلعی سطح پر آبادی کے تخمینوں اور فیملی ویلفیئر ورکرز کی دو سالہ تربیتی پروگرام سمیت متعدد اہم منصوبوں پر کامیابی سے کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہایس ڈی پی آئی ملک کے ممتاز پالیسی تحقیقی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان ہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری آبادی، ترقی اور پائیدار مستقبل سے متعلق تحقیق کو نئی سمت دے گی۔تقریب کے اختتام پر شرکاءکو ایس ڈی پی آئی کی تحقیقی، پالیسی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر مشتمل ایک تعارفی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی





