داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)نہر تھل لاری اڈہ پر تعمیر ہونے والا پل چالو ہونے سے پہلے ہی توجہ کا مرکز بن گیا عوام کا کہنا ہے کہ ٹھیکدار نے نارمل کام کر کے پل تعمیر کر دیا ہے جو زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا پہلے پل کی نہر میں پلروں پر کئی سال لگ گئے اس کے بعد پل پر جب بیم رکھنے کا وقت آیا تو بیم پر لگے سریے کسی نے کاٹ کر لے گئے جس کے بعد دوبارہ ان کے ساتھ دوسرے سریوں کے ٹکڑے ویلڈ کیے گئے جس پر داؤدخیل کے ورکر جو مختلف پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں ان کے مطابق کہ ان سریوں کی ویلڈنگ سے مضبوطی کم ہو گی جب بیم رکھ کے پل پر لنٹر ڈال دیا گیا تو بیم کے ساتھ نیچے جو پلستر کیا گیا کوئی آسمان کی طرف جا رہا تھا تو کوئی نیچے نہر کی طرف جا رہا تھا اور ساتھ سائیڈ کی حفاظتی دیواروں میں بھی داڑیں نظر آ رہی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ٹھیکدار نے مرمت کر کے ٹھیک کر دیں اہلیان داؤدخیل نے ڈی سی میانوالی شاہد عباس کاٹھیا سے مطالبہ کیا ہے کہ چند روز تک نہر تھل لاری اڈہ پل کو چالو کر دیا جائے گا اس سے قبل اس کی مکمل چیک اپ کیا جائے کہ یہ بھاری ٹریفک کے لیے موزوں ہے کیوں کہ اس پل سے گندم ۔چاول۔مونگی۔مٹی۔کی ٹرالیاں اور ہیوی ٹرک اینٹیں لیکر گزرے گے اور کٹائی والی ہارویسٹر مشینیں بھی اسی پل سے گزریں گی کیا یہ پل بھاری ٹریفک کا وزن برداشت کرے گا چیکنگ ہونے کے بعد اگر پل ٹھیک ہے تو کوئی مسلہ نہیں اگر عوامی رائے کے پل مضبوط نہیں تو بروقت کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے





